پائیدار نمو کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات لازم ہیں وزیراعظم اصلاحات کے عمل کوآگے بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس بریفنگ

22

اسلام آباد۔3نومبر :وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پائیدار نمو کیلئے عروج وزوال کے چکر کا خاتمہ اورمعاشی استحکام و سازگار جیوپولیٹیکل حالات کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور تجارت کیلئے بروئے کارلانا ہمارا مطمع نظرہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے، پائیدار نمو کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات لازم ہیں، وزیراعظم اصلاحات کے عمل کوآگے بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ پیرکو یہاں حکومت کی معاشی ٹیم کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول کے بعد پائیدار نمو ہمارا ہدف ہے، کلی معیشت کی صورتحال مستحکم ہے اور3 بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف کے سٹاف لیول معاہدے سے پاکستان کی معاشی سمت کے درست ہونے پربیرونی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پائیدار نمو کیلئے عروج وزوال کے چکر کے خاتمہ اورمعاشی استحکام و سازگار جیوپولیٹیکل حالات کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور تجارت کیلئے بروئے کارلانا ہمارا مطمع نظرہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پائیدار نمو کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات لازم ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں میں اصلاحات، رائٹ سائزنگ اور نجکاری کے شعبے میں پیشرفت جاری ہے، وزیراعظم اصلاحات کے عمل کوآگے بڑھانے میں قائدانہ کرداراداکررہے ہیں۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ برآمدات میں 8.2فیصداضافہ ہواہے، تجارتی خسارہ 9فیصد بڑھا ہے تاہم ترسیلات زرمیں اضافہ نے اس کے اثرات کوزائل کرنے میں مدددی ہے۔حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ بھی قابومیں ہے، رواں ماہ قومی مالیاتی کمیشن کاافتتاحی اجلاس متوقع ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کومنطقی اندازمیں مکمل کرنا ضروری ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے،کابینہ کی طرف سے ای سی سی کوہدایات ملی ہے اوراس کی روشنی میں مہنگائی پرقابوپانے کیلئے اقدامات کی نگرانی کی جارہی ہے۔ایک سوال پروزیرخزانہ نے کہاکہ این ایف سی آئینی فورم ہے اوراس سے متعلق امورصرف اسی فورم میں ڈسکس ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ پالیسی ریٹ میں کمی سے مالیاتی گنجائش پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیا ل نے کہا کہ ایک سال میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں 1.49فیصد اضافہ ہوا ہے، انفورسمنٹ اور تعمیل کے اقدامات کے ذریعے محصولات کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے، پورے خطے کے کسی بھی ملک میں ایک سال کے عرصہ میں اتنی نمایاں پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور اس بات کوعالمی بنک نے بھی تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر ٹیکس اصلاحات میں تین سے چار سال لگتے ہیں، ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اس سال انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور فائلرز کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ کر59 لاکھ ہوگئی ہے، ریٹرن کے ساتھ ٹیکسوں کی وصولی 60.2ارب سے بڑھ کر69 ارب ہوچکی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ایف بی آر کو 75ارب کے شارٹ فال کا سامنا ہے، اس میں ریکوری بھی ہوجائے گی تاہم ا س کیلئے کانٹی جینسی کے اقدامات نہیں لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ٹرانسفارمیشن کے عمل پر عملدرآمد ہورہا ہے، اس وقت انکم ٹیکس کا گیپ 1.7ٹریلین روپے ہے جس میں ٹاپ ون فیصد کا گیپ 1.3ٹریلین روپے ہے، سرفہرست 5 فیصد کو نکال کرٹیکس کا مجموعی گیپ 200ارب روپے کے قریب ہے، ریونیوموبلائزیشن کا دباﺅ وفاق پرزیادہ ہے، صوبوں پرریونیوموبلائزیشن کادباﺅ نہیں ہوتا۔ راشد محمود لنگڑیا ل نے کہا کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ ایف بی آر میں اصلاحات کے عمل میں ایف بی آرکی اپنی ٹیم کلیدی کردار ادا کررہی ہے، وزیراعظم ہر منگل کو ایف بی آر کا خود احتساب کرتے ہیں اور اس کے ہمیں فوائد بھی مل رہے ہیں، ہمیں حکومت کا تعاون حاصل ہے، تمباکو کی جی ایل ٹیز کے حوالے سے ہمیں حکومت کا تعاون حاصل ہے، اس وقت 160 سے زائد رینجرز کے اہلکار ہمارے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے عمل میں لوگوں، ٹیکنالوجی اور گورننس پر توجہ دی جارہی ہے۔ چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو سیاسی اور انتظامی دباﺅ سے آزاد کیا گیا ہے، چینی اور سیمنٹ کے شعبہ جات میں ٹیکس گیپ تھا، مصنوعی ذہانت اورٹیکنالوجی کے استعمال سے سیمنٹ کے ایک ایک بیگ کی نگرانی ہورہی ہے۔چینی کے شعبہ میں سیلزٹیکس میں 43ارب اورانکم ٹیکس میں 42ارب کافائدہ ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کوڈیجیٹلائز کرنے سے ٹیکسوں کی مدمیں فوائد ملیں گے۔ سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے کہاکہ قرضوں کاانتظام وانصرام اورپنشن اصلاحات کاعمل کامیابی سے جاری ہے،اس سال قرضوں پرسودکیلئے بجٹ کے اخراجات کاتخمینہ 8.2ٹریلین روپے ہے،ہماری نیلامیاں سہل اندازمیں ہورہی ہیں،قیمتیں مستحکم ہیں،نیلامیوں میں اہداف سے زیادہ بولیاں موصول ہورہی ہیں۔ڈیبٹ منیجمنٹ آفس بہترین کام کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم فنانسنگ کے آپشنز کومتنوع بنارہے ہیں،زیروکوپن اس کی ایک مثال ہے،ایک سال میں 1.3ٹریلین روپے کے زیروکوپن جاری کئے گئے جس کی وجہ سے مالی خسارہ میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کوہم نے فکسڈ ڈیٹ قرضوں کیلئے استعمال کیاہے،اس سے رول اوورکارسک کم ہواہے اور استحکام آیاہے۔ ستمبرمیں سود کی مدمیں 30ارب روپے اوراس سال اگست میں 120 ارب روپے کی بچت کی گئی،گزشتہ ایک سال میں قرضوں کے انتظام وانصرام میں ایک ٹریلین روپے کی بچت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ پانڈابانڈمتعارف کرانے کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے، ابتدائی طورپر250ملین ڈالرکے بانڈز جاری کئے جائیں گے اوربہترنتایج کی صورت میں اسے ایک ارب ڈالرتک بڑھایاجائے گا۔سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ شارٹ ٹرم فنانسنگ کی بجائے طویل المعیاد قرضوں پرتوجہ دی جارہی ہے،یکم اکتوبرسے 17اکتوبرتک ٹریژری بلوں میں 90ملین ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔حکومتی گارنٹیوں کے حوالہ سے بھی اقدامات جاری ہے،ہم نے 4.4ارب روپے کی گارنٹیاں جاری کی ہے، اس مقصد کیلئے آئی ایم ایف سے طے کردہ بینچ مارک کی پیروی ہورہی ہے۔سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ قرضوں کے انتظام وانصرام کیلئے بہترین بین الاقوامی طریقہ ہائے کارپرعمل درآمدہورہاہے، اس مقصد کیلئے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس میں تبدیلیاں متعارف کرائی جارہی ہے، وزارت اقتصادی اموراوردیگرمتعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرقرضوں کے انتظام وانصرام میں بہتری لائی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پنشن اصلاحات پرعمل درآمدہورہاہے، نئی پنشن کنٹری بیوٹری سکیم پرعمل درآمدہوچکاہے،مسلح افواج کاسروس سٹرکچرمختلف ہے اس مقصدکیلئے مسلح افواج کے ساتھ صلاح ومشوروں کاسلسلہ جاری ہے، وزارت خزانہ نے نان بنکنگ فنانس کمپنی قائم کی ہے جوبراہ راست کنٹری بیوشن سکیم کے معاملات دیکھ رہی ہے۔ان اقدامات سے اگلے 10برسوں میں پنشن اخراجات میں 30فیصدتک آئے گی۔پیرامیٹرک اصلاحات میں مسلح افواج کے ساتھ ہماری بات چیت ہورہی ہے اوراس کے مثبت نتایج سامنے آئیں گے۔

Comments are closed.