حکومتِ بلوچستان کا 33 سال سے زیرِ قبضہ چلتن گھی مل سیل کرنے کا فیصلہ
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
کوئٹہ | 3 نومبر 2025ء
حکومتِ بلوچستان کا 33 سال سے زیرِ قبضہ چلتن گھی مل سیل کرنے کا فیصلہ
حکومتِ بلوچستان نے 33 سال سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ چلتن گھی مل کو سیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ فیصلہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔
سیکرٹری انڈسٹریز نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجی کمپنی کے ساتھ لیز معاہدہ 1992ء میں خلاف ورزی کے باعث ختم کردیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود کمپنی نے سرکاری مل پر قبضہ برقرار رکھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ قبضہ گیروں کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ میں دائر درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں جبکہ نجی کمپنی پر 23 کروڑ روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے انتظامی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ مل کو فوری طور پر واگزار کرایا جائے۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ سرکاری املاک پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کو صوبے بھر میں انسدادِ قبضہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔
Comments are closed.