بھارتی جیلوں میں حریت قائدین و کارکنان کی طویل قید پر گہری تشویش کا اظہار

30

(کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان شاخ)

*اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فوری رہائی کا مطالبہ*

کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ) نے بھارتی جیلوں میں *دہائیوں سے پابند سلاسل کشمیری حریت قائدین و کارکنان کی حالتِ زار پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قیدِ تنہائی اور بدترین مظالم انسانی و بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں* ۔

اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے *کنوینر غلام محمد صفی* نے کہا کہ “ان رہنماؤں کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے قوم کے اس پیدائشی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق — حقِ خودارادیت — کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو خود اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو دیا تھا۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ 77 سال قبل بھارت نے خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے جا کر یہ وعدہ کیا تھا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق دیا جائے گا۔
بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے سرینگر میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ “ہمارا فوجی عمل دخل محض امن قائم کرنے کے لیے ہے، اور جیسے ہی امن بحال ہوگا، بھارتی فوج واپس چلی جائے گی، اور کشمیریوں کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔”
کنونیر غلام محمد صفی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت نے نہ صرف اپنے اس بین الاقوامی وعدے سے انکار کیا بلکہ ان رہنماؤں کو، جو اس وعدے کی یاد دہانی کرواتے ہیں، من گھڑت الزامات کے تحت دہائیوں سے جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر رہنما سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر انہیں طبی سہولیات تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور نیلسن منڈیلا رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور انسانی حقوق کی جملہ بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ:
1. تمام حریت قائدین و کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
2. جموں و کشمیر میں سیاسی جبر و استحصال کا سلسلہ بند کیا جائے۔
3. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جائے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے زور دے کر کہا کہ “اپنا حق مانگنا کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ وہ بنیادی حق ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات کے تحت تمام اقوام کو حاصل ہے۔”

انہوں نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی مسلسل خاموشی نہ صرف کشمیریوں پر مظالم کو بڑھا رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ حق خودارادیت ،انصاف، انسانی وقار اور عالمی امن کا سوال ہے۔ دنیا کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی؟”

کل جماعتی حریت کانفرنس نے اپنے بیان کے اختتام پر عالمی برادری سے پرزور اپیل کی کہ وہ محصور کشمیری قائدین اور کارکنان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔
“اپنا حق مانگنا جرم نہیں یہ اقوام متحدہ کا عطا کردہ حق ہے۔”
شعبہ نشرو اشاعت کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ)

Comments are closed.