وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ پر عدم پیش رفت پر اظہارِ برہمی، منصوبے کو فوری اسٹریم لائن کرنے کی ہدایت

21

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، یکم نومبر 2025

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ پر عدم پیش رفت پر اظہارِ برہمی، منصوبے کو فوری اسٹریم لائن کرنے کی ہدایت

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے پر سست پیش رفت پر وزیرِ اعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو منصوبے کو فوری طور پر اسٹریم لائن کرنے کی ہدایت جاری کی۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبے کے غریب عوام کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایت کی کہ منصوبے کی تمام سرگرمیوں پر ٹائم لائنز اور پی سی ونز کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

سہیل آفریدی نے منصوبے کے تحت عملے اور مستفیدین کی سلیکشن میں سو فیصد میرٹ کو یقینی بنانے اور عوام کے ایک ایک روپے کے شفاف استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی صوبے کی معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD) کے تعاون سے جاری ہے۔ منصوبے کی کل لاگت 30 ارب روپے سے زائد ہے، جس میں سے 58 فیصد فنڈنگ ایفاد، 16 فیصد صوبائی حکومت اور 26 فیصد حصہ مستفیدین (Beneficiaries) کی جانب سے ہے۔

سات سالہ اس منصوبے سے 43 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ منصوبہ زرعی کاروبار (Agri-Business)، ہنرمندی کے فروغ (Skills Development)، روزگار کے مواقع اور پالیسی سپورٹ جیسے اہم شعبوں پر مرکوز ہے۔

بریفنگ کے مطابق ایگری بزنس جز کے تحت 550 پروفیشنل فارمر آرگنائزیشنز قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ اسکلز ڈویلپمنٹ جز کے تحت 60 ہزار نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اب تک 20 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام اجزاء پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہوئے عوام کو براہِ راست ریلیف دیا جائے تاکہ صوبے کی دیہی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔

Comments are closed.