محکمہ ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام تین روزہ بلوچستان گرینڈ ٹورزم فیسٹیول رنگا رنگ تقاریب کے بعد اسلام آباد میں شاندار انداز میں اختتام پذیر ہوا

21

اسلام آباد، 12 اکتوبر :محکمہ ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام تین روزہ بلوچستان گرینڈ ٹورزم فیسٹیول رنگا رنگ تقاریب کے بعد اسلام آباد میں شاندار انداز میں اختتام پذیر ہوا۔فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل تھے، تقریب میں مختلف وفاقی و صوبائی شخصیات، غیر ملکی مہمانوں، سفارتی نمائندوں، ماہرینِ سیاحت، طلبہ، اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ فیسٹیول پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ نوابزادہ میر زرین مگسی اور سیکرٹری محکمہ ثقافت سہیل الرحمان بلوچ کی خصوصی ہدایات پر منعقد کیا گیا۔محکمہ کے ڈائریکٹر ثقافت ڈاکٹر داؤد خان ترین، ڈائریکٹر سیاحت ہاشم کھیتران اور ڈائریکٹر آثارِ قدیمہ جمیل بلوچ کی فعال قیادت میں محکمہ کی متحرک ٹیم نے اس فیسٹیول کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ فیسٹیول میں بلوچستان کی ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاری کے مواقع، سیاحتی امکانات، اور صوبے کے متنوع ثقافتی ورثے پر خصوصی توجہ دی گئی۔تقریب کے دوران صوبے کے تاریخی ورثے اور قدرتی خوبصورتی کو جدید انداز میں پیش کر کے ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے نئے امکانات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وفاقی وزیر برائے کامرس و تجارت جام کمال خان، رکنِ قومی اسمبلی جمال خان رئیسانی، صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، میر لیاقت لہڑی اور دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں محکمہ ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ کے پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی، سیکرٹری سہیل الرحمن بلوچ اور ان کی پوری ٹیم کو بلوچستان گرینڈ ٹورزم فیسٹیول کے شاندار اور کامیاب انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔مقررین نے کہا کہ یہ ایونٹ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی سیاحتی اور ثقافتی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ وفاقی دارالحکومت میں بلوچستان کی ثقافت، روایات، قدرتی حسن، دستکاریوں اور عوامی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا، جس سے صوبے کی مثبت شناخت کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔مقررین نے مزید کہا کہ محکمہ ثقافت و سیاحت کی ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کے ساتھ بلوچستان کے حقیقی رنگ، مہمان نوازی اور تنوع کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جس پر وہ مبارک باد کی مستحق ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ برسوں میں ایسے پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ بلوچستان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاحتی و ثقافتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ ڈائریکٹر ثقافت ڈاکٹر داؤد خان ترین نے بلوچستان کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے براہِ راست تھیٹر پرفارمنسز پیش کیں جن میں مشہور کہانیاں “ہانی و شے مرید”، “ولایتی مہمان دیسی میزبان”، “مست توکلی” اور “بیمر” شامل تھیں۔ان پرفارمنسز نے نہ صرف حاضرین کو محظوظ کیا بلکہ بلوچستان کی مہمان نوازی، ثقافتی تنوع، عوامی اقدار اور صوبے کو درپیش چیلنجز کو فنکارانہ انداز میں اجاگر کیا۔اختتامی تقریب میں مقررین نے کہا کہ اس طرح کے فیسٹیول بلوچستان کے مثبت تشخص، سیاحتی امکانات اور ثقافتی فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے محکمہ ثقافت و سیاحت کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اپنی ثقافت، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے۔

Comments are closed.