بلوچستان میں عالمی یومِ سیاحت کی رنگا رنگ تقریب — سیاحت اور پائیدار ترقی کے فروغ پر زور
کوئٹہ (4 اکتوبر)
ڈائریکٹوریٹ آف ٹورازم بلوچستان کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ سیاحت کے عنوان سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم، ثقافتی نمائندگان اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز ڈپٹی ڈائریکٹر ٹورازم گوہرام بخش بلوچ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورازم و فوکل پرسن محمد یونس بلوچ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے معزز مہمانِ خصوصی سید ابوالحسن میری، کلچرل اٹیچی اور ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگ ایران، سمیت دیگر مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
پروگرام کے دوران منعقدہ پینل ڈسکشن کا موضوع “بلوچستان کے غیر دریافت شدہ سیاحتی امکانات” تھا، جس میں ڈاکٹر زاہد دشتی (ماڈریٹر)، جمیل حسین بلوچ (ڈائریکٹر آرکیالوجی و میوزیم)، ڈاکٹر بینش ملک (ڈائریکٹر بزنس انکیوبیشن سینٹر، جامعہ بلوچستان)، داؤد ترین اور روزینہ خلجی (ڈائریکٹر کوئٹہ فاؤنڈیشن) شریک تھے۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑ، ساحل، صحرا اور آثارِ قدیمہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں، بشرطیکہ جدید انفراسٹرکچر اور تشہیری معاونت فراہم کی جائے۔
مہمانِ خصوصی سید ابوالحسن میری نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ایران کے درمیان سیاحتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان دونوں ممالک کے درمیان ایک ثقافتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، جو باہمی ہم آہنگی اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر زینب بی بی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار سیاحتی منصوبے مقامی معیشت کو مستحکم اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سیاحت عالمی معیشت کا 10 فیصد حصہ رکھتی ہے اور امن، ثقافتی تبادلے اور مثبت روابط کے فروغ کا ذریعہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر “رنگِ بلوچستان” کے عنوان سے ایک رنگا رنگ ثقافتی شو پیش کیا گیا جس میں صوبے کی موسیقی، رقص اور روایات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔
شرکاء نے بلوچستان کی ثقافتی پہچان کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبہ مستقبل قریب میں عالمی سیاحت کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
Comments are closed.