آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں انٹیگریٹڈ مینٹل ہیلتھ پروگرام کا آغاز

18

گلگت، 4 اکتوبر 2025:
آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان  نے گلگت بلتستان میں انٹیگریٹڈ مینٹل ہیلتھ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد خطے کے عوام کو بروقت، قابلِ رسائی اور رازدارانہ ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام سے گلگت بلتستان اور چترال کے 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔

افتتاحی تقریب آغا خان ہسپتال گلگت میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری پاپولیشن/سوشل ویلفیئر، وومن ڈیولپمنٹ، ہیومن اینڈ چائلڈ رائٹس اینڈ یوتھ افیئرز ظفر وقار تاج تھے۔

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کو اکثر بدنامی اور معاشرتی دباؤ کا سامنا رہتا ہے، جبکہ علاج اور رہنمائی کے مواقع محدود ہیں۔ انہوں نے آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اس اہم اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام گلگت بلتستان میں ذہنی صحت کے شعور اور علاج کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

ظفر وقار تاج نے کہا کہ حکومتِ گلگت بلتستان اس پروگرام کے نفاذ میں آغا خان ہیلتھ سروسز کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور پاپولیشن/سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اس پروگرام کے کلیدی شراکت دار ہیں۔

یہ انٹیگریٹڈ پروگرام AKHS,P اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے دیگر اداروں کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، جن میں آغا خان ایجوکیشن سروس، آغا خان یونیورسٹی – برین اینڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ، AKU-IED، ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام، ڈیجیٹل ہیومن ریسورس سینٹر (DHRC)، آغا خان ہیلتھ بورڈ فار پاکستان اور ڈیپارٹمنٹ آف جماعتی انسٹی ٹیوشنز کی انٹرنیشنل مینٹل ہیلتھ ٹاسک فورس شامل ہیں۔

سیکریٹری سوشل ویلفیئر ظفر وقار تاج نے کہا کہ ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے سماجی شعور، حکومتی اشتراک اور پالیسی سطح پر اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے آغا خان ہیلتھ سروسز کی کاوشوں کو ایک مثالی اقدام قرار دیا جو دیگر اداروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گا۔

تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا افراد کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ذہنی امراض ملک میں کل بیماریوں کے بوجھ کا چار فیصد سے زیادہ ہیں اور خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

بالخصوص حمل اور زچگی کے بعد کی مدت میں خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد خواتین جو حمل یا زچگی کے بعد کے دور سے گزرتی ہیں، ڈپریشن یا اضطراب کا شکار ہیں۔

اسی طرح گلگت بلتستان اور چترال میں حالیہ برسوں میں خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

آغا خان ہیلتھ سروسز میں کمیونٹی پروگرامز اور ڈونر فنڈڈ پروجیکٹس کی سربراہ فریدہ شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی شراکت اور حمایت سے ادارے کے اعتماد کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ حکومتِ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کے فروغ اور آگاہی کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گا۔

Comments are closed.