“پراٹھے کہاں سے آئیں جب آٹا ہی نہیں؟” محکمہ صحت بلوچستان کی ناکامی کی داستان

25

زرا جرآت کے ساتھ

تحریر: میر اسلم رند

بلوچستان میں صحت کا شعبہ ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جہاں دعوے آسمان سے بلند، مگر زمینی حقیقت خاک آلود ہے۔ عوام کو کہا جاتا ہے اسپتالوں میں بہترین سہولیات موجود ہیں، مگر اسپتالوں میں ڈسپرین کی گولی تک میسر نہیں۔ یہ وہی حقیقت ہے جیسے گھر میں آٹا نہ ہو اور ماں سے پراٹھے بنانے کو کہا جائے۔

سرکاری اسپتال یا پرائیویٹ کلینک کی پارکنگ؟

اکثر ڈاکٹرز سرکاری اسپتالوں کی ڈیوٹی کو محض رسمی سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقی توجہ اور وقت اپنے پرائیویٹ کلینکس کو دیتے ہیں۔ ایمرجنسی میں بھی مریض کو ڈاکٹر سے فون پر رابطہ کروایا جاتا ہے کیونکہ وہ نجی اسپتال میں ‘کماو وقت’ گزار رہے ہوتے ہیں۔

آئی سی یو کی صورت حال

جان بچانے کی جگہ یا رسمی خانہ پُری؟ پوری دنیا میں 2 بیڈز کے لیے ایک نرس ہوتی ہے، لیکن کوئٹہ میں 16 بیڈز کے لیے ایک نرس۔ نہ سینئر ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں، نہ مطلوبہ مشینری یا ادویات۔ مریض ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں، ورثا مایوس ہو کر پرائیویٹ اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

ادویات نہیں، مگر ٹف ٹائل

ضرور! بلوچستان کے بیشتر اسپتالوں میں ادویات ناپید، مگر دیواروں پر نئے رنگ اور فرش پر نئی ٹف ٹائلز ضرور لگی ہیں۔ کیونکہ دوائیوں میں کمیشن کم، تعمیراتی کاموں میں زیادہ ملتا ہے۔ بدعنوانی کا یہ کھلا کھیل مریضوں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔

شکایات پر اصلاح نہیں

تبادلے ہوتے ہیں جب بھی کوئی قابل افسر یا سیکریٹری اصلاحات کی کوشش کرتا ہے، اسے ‘عوامی مفاد’ کے نام پر ہٹا دیا جاتا ہے۔ تبدیلی کی بجائے، مصلحت، کرپشن، اور اقرباپروری کا راج قائم رکھا جاتا ہے۔

صرف چند ادارے مثال بنتے ہیں

سول اسپتال کوئٹہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے، مگر ٹراما سینٹر کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے۔ وہاں منیجنگ ڈاریکٹر اور ڈاکٹرز واقعی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور دن رات ایمرجنسی میں مریضوں کی زندگیاں بچانے میں مصروف رہتے ہیں۔سننے میں آیا ہے ٹرامہ سینٹر میں اسٹاف کی بھی کمی ہے ، لیکن اس کے باوجود کارکردگی بہتر ہے

وزارت میں تبدیلی مگر کارکردگی میں گراوٹ

جب موجودہ وزیر صحت نے منصب سنبھالا، امید بندھی کہ کچھ بہتری آئے گی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سننے میں صرف مایوسی کی باتیں آتی ہیں۔ عوام کی توقعات خاک میں مل چکی ہیں۔

سفارشات

صحت کے بجٹ میں دوائیوں کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے۔

ڈاکٹرز کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔

پرائیویٹ پریکٹس کو سرکاری اوقات میں مکمل بند کیا جائے۔

ہسپتالوں کے ایم ایس اور سینئر سٹاف کی کارکردگی کی بنیاد پر تعیناتی و تبادلے ہوں۔

ترقیاتی بجٹ کا کم از کم 50% حصہ براہ راست مریضوں کی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔

یہ وقت محض دعووں سے آگے نکلنے کا ہے۔ بلوچستان کے عوام صحت جیسے بنیادی حق سے محروم نہیں رہنے چاہییں۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اصلاحات صرف سوشل میڈیا پر نہیں، زمینی حقائق میں نظر آنی چاہییں۔

Comments are closed.