منسٹری آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام نیشنل ایکشن پلان ان بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کے متعلق ایک مشاورتی نشست کا انعقاد کیا گیا
کوئٹہ18جولائی :۔منسٹری آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام نیشنل ایکشن پلان ان بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کے متعلق ایک مشاورتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر عصمت اللہ قریش, ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس محمد ارشد, ودیگر تمام سٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔مقررین نے مشاورتی اجلاس میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بزنس اپریشن میں انسانی حقوق کی تحفظ کیلئے نیشنل ایکشن پلان ان بزنس اینڈ ہیومن رائٹس 2021-2026 منظور کیایہ منصوبہ 8 مخصوص ایریاز کے ساتھ 69 نکات پر مشتمل ہے۔ اس نیشنل ایکشن پلان ان بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کا مقصد صنفی برابری, عورتوں ,معذور افراد اور معاشرے کے دیگر محروم لوگوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انکے استعداد کار بڑھاتے ہوئے انکو بزنس میں انکا جائز مقام دلانا ہے۔ جس کیلیے اگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کا مقصد عورتوں اور معذور افراد کیلیے معاشرے کے دیگر افراد کی طرح یکساں مواقعوں کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اور انکے ساتھ امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔اس پلان کے تحت صنفی برابری کو یقینی بنانے کیلئے ورکنگ پلیس میں کمیٹیاں اور یکساں قوانین متعارف کرانے ہیں۔ عورتوں اور محروم افراد کو سود کے کم شرح یا بغیر سود کے قرض کی فراہمی اس منصوبے کے تحت قابل ذکر اقدام ہے۔ تاکہ معاشرے کے محروم افراد کی مدد کی جاسکے۔ بزنس میں معاشرے کے معذور افراد اور عورتوں کو مواقع دینے کیلئے انہیں مزید سہولیات دئیے جائینگے۔ تاکہ انکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں خودکفیل بنایا جاسکیں۔


