اہم خبریںبلوچستان

دوسالوں میں دفاترمیں خواتین کو ہراساں کیے جانے کی 26شکایات

کوئٹہ:  صوبائی خاتون محتسب بلوچستان صابرہ اسلام نے کہاہے کہ صوبائی خاتون محتسب نے 2سال میں سرکاری و نجی دفاتر سے خواتین کو ہراساں کیئے جانے کی 26 شکایات ملیں جن میں سے 18 شکایات کا فیصلہ کیا جا چکا ہے جبکہ 7کیسز پر کام جاری ہے،صوبے بھر میں خواتین کی ہراسگی سے متعلق زیادہ شکایات تعلیم اور صحت کے شعبوں سے ملیں، بلوچستان کے ہر ضلع میں ہراسگی کے خلاف شکایات سیل قائم کر دیئے گئے ہیں،خواتین کی ہراسگی کے خلاف ہماری زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے، خواتین میں ہراسگی کے خلاف اعتماد اور آگہی بڑھ رہی ہے دفاتر میں خواتین سے غیر اخلاقی رویہ، زبردستی تعلق، مراعات کو ذاتی تعلق کہنا ہراسگی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی خاتون محتسب بلوچستان صابرہ اسلام نے کہا ہے کہ صوبے میں جائے ملازمت پر خواتین کے تحفظ کا ادارہ بھرپور کام کر رہا ہے۔ ہراسگی سے متعلق کیسز میں ملزمان کو مختلف نوعیت کے جرمانے اور سزائیں دی گئیں۔صوبائی محتسب نے بتایا کہ بلوچستان کے ہر ضلع میں ہراسگی کے خلاف شکایات سیل قائم کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کی ہراسگی کے خلاف ہماری زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے، خواتین میں ہراسگی کے خلاف اعتماد اور آگہی بڑھ رہی ہے۔صابرہ اسلام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفاتر میں خواتین سے غیر اخلاقی رویہ، زبردستی تعلق، مراعات کو ذاتی تعلق کہنا ہراسگی ہے۔انہوں نے کہاکہ 2 سال میں سرکاری و نجی دفاتر سے خواتین کو ہراساں کیئے جانے کی 26 شکایات ملیں، جن میں سے 18 شکایات کا فیصلہ کیا جا چکا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں خواتین کو جائے تعیناتی پر ہراساں کرنے سے متعلق 7کیسز پر کام جاری ہے،صوبائی خاتون محتسب خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق بھرپور جدوجہد کے ساتھ آگاہی پھیلانے کیلئے بھی کوششیں کررہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button