انٹر نیٹ کا آزادانہ استعمال، پاکستان بد ترین ممالک میں شامل ،رپورٹ

0 33

نیویارک:  دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنے والے ادارے نے مسلسل 9ویں سال پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والا ملک قرار دے دیا،جنوبی ایشیا میں انٹر نیٹ پر قدغن کے لحاظ سے پاکستان کا تیسرا جبکہ عالمی سطح پر 26واں نمبر ہے، حکومتیں سوشل میڈیا کو انتخابات پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہیں، اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹل آمریت کا رجحان قرار دیا گیا،ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ ‘رواں برس کی درجہ بندی حکومتوں کی جانب سے قلیل مدتی اور رجعت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنے والے ادارے نے مسلسل 9ویں سال پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والا ملک قرار دے دیا۔فریڈم ہائوس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2019 میں انٹرنیٹ آزادی سے متعلق100 ممالک میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد 27ویں نمبر سے 26ویں نمبر پر آگیا۔فریڈم آن دی نیٹ سے متعلق سالانہ رپورٹ 2019 ‘ کرائسس آف سوشل میڈیا’ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے ‘ آزاد نہیں ‘ملک قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ہرسال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے۔مذکورہ رپورٹ میں جون 2018 سے مئی 2019 کے عرصے کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اس عرصے میں عالمی سطح پر انٹرنیٹ آزادی میں کمی آئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا کو انتخابات پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہیں، رپورٹ میں اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹل آمریت کا رجحان قرار دیا گیا۔اسی طرح رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی سے متعلق(100بدترین ممالک)میں سے 26 ویں نمبر رکھا گیا، پاکستان کی درجہ بندی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ تنزلی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان رسائی میں رکاوٹ میں25 سے 5ویں نمبر، مواد پر حدود کیلئے 35 میں سے 14ویں نمبر اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی میں 40 میں سے 7ویں نمبر پر رہا۔عالمی سطح پر پاکستان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی آزادی سے متعلق دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جبکہ خطے کے لحاظ سے ویتنام اور چین کے بعد پاکستان تیسرا بدترین ملک ہے۔پاکستان کے حوالے سے تیار کی گئی رپورٹ ڈیجیٹل رائٹس فانڈیشن نے تحریر کی تھی، ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ ‘رواں برس کی درجہ بندی حکومتوں کی جانب سے قلیل مدتی اور رجعت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے’۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.