جیے سندھ محاذ کے ضلعی رہنما ساگر ملاح جنہیں تین ماہ قبل سکرنڈ سے اغوا کیا گیا تھا، نواب شاہ اے سیکشن تھانے سے گرفتار کر لیا گیا ہے

24

سکرند رپورٹ راج کمار اوڈ: جیے سندھ محاذ کے ضلعی رہنما ساگر ملاح جنہیں تین ماہ قبل سکرنڈ سے اغوا کیا گیا تھا، نواب شاہ اے سیکشن تھانے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ساگر ملاح کو تین ماہ قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے اغوا کیا تھا، جس کے بعد سندھ بھر میں احتجاج کیا گیا۔ ساگر ملاح کی بہن صوفیہ بیگم ملاح نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کے بھائی کو نواب شاہ پولیس نے اغوا کیا ہے۔ کیس کے دوران ایس ایچ او سکرند اصغر ہالیپوٹو نے ایس ایس پی کے ذریعے عدالت میں جواب داخل کرایا، جس میں کہا گیا کہ ہم تفتیش کر رہے ہیں، جس میں عدالت نے حکم دیا کہ ساگر ملاح کو ہر صورت 19 جون کو پیش کیا جائے۔ جس کے بعد آج ان کی گرفتاری کا اعلان نواب شاہ اے سیکشن تھانے میں کیا گیا۔ اس بات کی تصدیق تعلقہ سکرنڈ کے جیے محاذ کے قائدین نے کی۔ اس موقع جسم کے چیئرمین ریاض چانڈیو نے کہا کہ سندھ میں دریائے سندھ پر بننے والی نہروں کے خلاف شہید بینظیر آباد ڈویژن میں پرامن ہڑتال کی گئی۔ یہ ہیں پانی کے قیدی، ساغر ملاح اور امتیاز بھٹی کو ناحق اغوا کر کے لاپتہ کر دیا گیا۔ سندھ کے حکمرانوں نے ہمیشہ سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ امتیاز بھٹی کی گرفتاری کے تین ماہ بعد ان کے خلاف تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سندھ کے عوام اپنے دریا اور وسائل کی ملکیت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم اس پورے عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کے عوام کے ساتھ ظلم اور بربریت کی ہے۔

Comments are closed.