آزاد جموں وکشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے ایران پر اسرائیل کے بلا اشتعال حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور دیگر نقصان کی شدید مذمت اور اپنے دلی افسوس کا اظہار کیا ہے
میرپور (پی آئی ڈی)14جون- آزاد جموں وکشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے ایران پر اسرائیل کے بلا اشتعال حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور دیگر نقصان کی شدید مذمت اور اپنے دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام پر مذاکرات چل رہے تھے۔ لیکن اسرائیل نے خلیج میں اپنی علاقائی چوہدراہٹ اور فلسطینیوں کے بلا روک ٹوٹ قتل عام کرنے کے لیے ایران پر بلاجواز حملہ کیا جس سے اس کے سول سائینسدانوں سمیت عسکری قیادت شہید ہوئی اور ایرانی ایٹمی اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ چوہدری مجید نے کہا کہ اسرائیل کے یہ حملے ایران کے خودمختاری اور بین الاقوامی جنگی ممنوعات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ میں کشمیری قوم کی طرف سے ایران پر ہوئے غیر قانونی حملوں کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ان اقدامات سے مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن قائم کرنے اور تنازعات کے مذا کرات کے ذریعے حل کی کاوشوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ثابت ہو گیا کہ اسرائیل نہ صرف جارح ملک ہے بلکہ یہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم سب کھل کر اپنے پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں جس نے ہماری مسئلہ کشمیر، زلزلہ 2005، ہر قسم کی آفات، پاک بھارت جنگ 2019 اور 2025 میں غیر مشروط حمایت اور کھلم کھلا مددکی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی سے صیہونی ریاست میں تباہی مچ گئی اور اس وقت اسرائیل کے حملہ آور یہودی اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے فلسطینی بھائی اور قبلہ اول بیت المقدس یہودی تسلط سے آزاد ہوں گے اور مسلمان وہاں آزادی سے نماز ادا کریں گے۔
Comments are closed.