اہم خبریںبلوچستان

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد کابلوچستان میں ہسپتالوں کی خستہ حالی پراظہاربرہمی

کوئٹہ: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بلوچستان میں ہسپتالوں کی خستہ حالی پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر صوبے کے ہسپتالوں میں اچھے آلات موجود ہیں تو پھرلوگ باہر سے کیوں علاج کروارہے ہیں ،آفیسران قابل احترام تاہم جو بھی نیا آفیسر آتاہے اسے ذمہ داری لینا پڑتی ہے کہ حکومتی احکامات پر کتنا اور کہاںپرعملدرآمد ہواہے ؟سیکرٹری صحت صوبے کے ہسپتالوں کے دوروں کا شیڈول بنائیں اور وہاں عوام کو میسر ہونے والی سہولیات کاجائزہ لیں ،یہ عوامی خدمت کے ساتھ ہسپتالوں کی حالت زار کیلئے مفید ثابت ہوگی ،عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو حکم دیاہے کہ وہ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں دستیاب وسائل ،مشینری ،آلات سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں،ہسپتالوں سے متعلق مسائل پر سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔یہ ریمارکس انہوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان کے ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دئےے ۔پیر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد،جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الحسن پرمشتمل تین رکنی بینچ نے بلوچستان میں ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کی سماعت کی ،سماعت کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر ،سیکرٹری صحت بلوچستان دوستین جمالدینی ،ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ بلوچستان سمیت مختلف ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ،ڈپٹی اٹارنی جنرل سید اقبال شاہ عدالت میں پیش ہوئے سماعت شروع ہوئی توچیف جسٹس نے مشینری کی خریداری سے متعلق رپورٹ پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ رپورٹ میں درج ہے کہ 25 آپریشن ٹیبل 70 کروڑ میں منگوائی گئی کیا 3 کروڑ کی ایک ٹیبل ہے یہ صرف ٹیبل ہیں یا دیگر آلات اس کے علاوہ ہیں،انہوں نے استفسار کیاکہ کیا یہ ساڑھے 3 کروڑ کی اور سب سرکاری اسپتالوں میں ہے، اگر اسپتالوں میں اچھے آلات ہیں تو لوگ باہر سے کیوں علاج کرواتے ہیں تین آپریشن تھیٹر کے لئے مائیکرو اسکوپ 45 لاکھ میں کس حساب سے خریدیں ہیں یہاں کے عوام دوسرے صوبوں میں جاکر علاج کرواتے ہیں صوبائی سیکرٹری صحت دوستین جمالدینی نے عدالت کوبتایاکہ وہ 25 آپریشن ٹیبل تھے یہ ان کے علاوہ خریدیں گئی ہیںجس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ صوبے کے اسپتالوں میں آلات, مشینری, ادویات کی خریداری اور اسٹاف کے حوالے سے اپنی رپورٹ خود تیار کرکے بھجوادیںانہوں نے سیکرٹری صحت کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نہیں لیکن نچلا اسٹاف خریداری میں بہت کچھ کرتا ہے آپ کے پاس 2 ارب روپے کا بجٹ تھا کیا کیا آپ نے اگر 2ارب روپے اسپتالوں پر خرچ کرتے تو ان کی حالت تبدیل ہوچکی ہوتی جس پر سیکرٹری صحت نے بتایاکہ ہم نے ادویات کی خریداری کی،چیف جسٹس نے سوال کیاکہ آپ ایسی باتیں نہ کریں 2 ارب روپے کی صرف ادویات خریدیں اور عدالت نے 2018 میں آپ سے جو کہا تھا ان احکامات پر کیا کیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ہم آپکی عزت کرتے ہیں آپ محترم ہیں ایسی باتیں نہ کریں جب بھی جو نیا آفیسر آتا ہے اسے ذمہ داری لینا پڑتی ہے حکومتی احکامات پر کتنا عملدرآمد اور کہاں پر کیا،سماعت کے موقع پر جسٹس اعجاز الحسن نے حکومت کی جانب سے تاخیر سے رپورٹ جمع کرانے پر برہمی کااظہار کیا اور استفسار کیاکہ حکومت نے اتنی تاخیر سے جواب کیوں جمع کروایاجس پر سیکرٹری صحت نے بتایاکہ میں نے رپورٹ جمع کرائی ہے،چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرے پاس نہیں ہے ابھی ملی ہے ہم آپ کے انتظار میں نہیں بیٹھ سکتے ایسی باتیں نہ کریں آپ پورا حساب دیں ہم کہیں نہیں جارہے نے سوال کیاکہ 384مشینری کی تنصیب کہاں ہوئی کسی اسپتال میں ہوئی ،کوئی تفصیل نہیں ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کس سے خریدی ہیں یہ بتائیں اور مشینری آپ کے زیر استعمال ہے یہ بھی بتائیں یہ مشینری آپ نے خود دیکھی ہے یا آپ کو کسی نے بتایا ہے سیکرٹری محکمہ صحت بلوچستان نے کہاکہ ہم ٹینڈر کرتے ہیں اور کوٹیشن منگواتے ہیں مذکورہ رپورٹ مجھے ایم ایس ڈی نے رپورٹ دی ہے جسٹس عجاز الحسن نے سیکرٹری صحت کو مخاطب کیااورکہاکہ رپورٹ پر آپ کے دستخط نہیں ہیں کل کو آپ اس سے انکار بھی کرسکتے ہیںچیف جسٹس نے استفسار کیاکہ خریدی گئی مشینری فنگشنل ہے ہمارے علم میں ہے کہ آپ کے پاس کافی چیزیں موجود ہیں لیکن قابل استعمال نہیںبلکہ مختلف اسپتالوں نے جو ڈیمانڈ دی تھی وہ پوری ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ اسپتالوں میں شہریوں کے مسائل ہوتے ہیں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے ،چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ساری ادھوری چیزیں ہیں جن کا یہاں کام نہیںجسٹس اعجاز الحسن نے کہاکہ ہم نے سیدھی رپورٹ مانگی تھی سامان آیا ہے کونسی جگہ لگایا گیا اور اب قابل استعمال ہے اس نامکمل رپورٹ کو جامع قرار دینا غلط ہے سیکرٹری صحت نے کہاکہ جس اسپتال نے جو ڈیمانڈ کی وہ پوری کردی گئی ہے ،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ صوبے کے ہسپتالوں کے اسٹاف ایمبولینسز آپریشن تھیٹر کو چیک کریںمیرا تجربہ ہے کہ 90 فیصد چیزیں نہیں ہونگی اور نہ۔ہی وہ۔قابل استعمال ہوگی میں گارنٹی دے سکتا ہوں بلکہ یہ سب مشینری ناکارہ ہوگئی یا بک گئی ہونگی جسٹس اعجاز الحسن نے کہاکہ جب تک مشینری قابل استعمال نہیں تو سب کچھ بے کار ہے سیکرٹری ہیلتھ نے کہاکہ اکثر ہسپتالوں میں مسائل کے حل کیلئے کوششیں کررہے ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ صوبے کے ہسپتالوں میں ہرماہ چکر لگائیں اور سہولیات کا جائزہ لیںیہ عوامی خدمت کے ساتھ ہسپتالوں کی قسمت بھی بدل جائے گی، صوبے بھر کے ہسپتالوں میں دورے جوایک ماہ سے تین ماہ کا شیڈول تیار کریں انہوں نے کہاکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اسکولز کالجز یونیورسٹیاں محض کاغذوں میں ہیں چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ یہ طریقہ غلط ہے یہ کنسلٹنس مختلف شعبہ جات کہ ہیں اور ان کی کیا تعداد ہے،چیف سیکرٹری نے کہاکہ کوئٹہ میں عوام کا رش زیادہ ہے ہم نے کنسلٹنٹس کی بھرتی مکمل کی ہے ہم نے فرم سے رابطہ کیا ہے جو مکمل جامع رپورٹ فراہم کریگی بلکہ نئی ایمبولینسز خرید رہے ہیں بی ایچ یوز کو فعال کیا اور قومی شاہراوں پر ایمرجنسی سینٹر بنائے اس موقع پرچیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو حکم دیاکہ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں دستیاب وسائل مشینری حالات سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔بعدازاں بینچ نے کیس کی سماعت دو ماہ تک ملتوی کردی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button