
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ 5 جنوری سے لاہور سے حکومت کے خاتمے کی کہانی شروع ہو گی، جہاں ان کی جماعت کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔
اپنی والدہ اور پاکستان کی دو بار سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی 14 ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم کٹھ پتلی کے خلاف شانہ بشانہ جدوجہد کریں گے، اس کٹھ پتلی کے خلاف وار کرنے کا وقت آ چکا ہے اور پانچ جنوری کو لاہور میں اس حکومت کے خاتمے کی کہانی شروع ہو گی جہاں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی‘۔
انھوں نے کہا کہ پانچ جنوری کا دن (ذوالفقار علی) بھٹو کا یوم پیدائش بھی ہے۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ’ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری ڈیل شہدا کی قبروں سے ہے۔ ہماری ڈیل پاکستان کی عوام سے ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’آج آپ نے تبصرہ نگاروں اور کالم نگاروں سے ڈیل ڈیل کی باتیں سنی ہوں گی لیکن یہ وہی شکلیں اور قلم ہیں جو 27 دسمبر 2007 کی صبح بے نظیر بھٹو پر الزام لگا رہے تھے کہ شہید بے نظیر ڈیل کر رہی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام پر بھروسہ کرتی ہے، جو چھپ چھپ کر ڈیل کی سیاست کرتے ہیں ان کے پاس گڑھی خدا بخش جیسا شہیدوں کا قبرستان نہیں ہوتا‘۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ’گڑھی خدابخش گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتی ہے، یہ وفاقی جماعت ہے، جو مساوات اور اسلام پر یقین رکھتی ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی غیرجمہوری رویہ نہیں اپنا سکتی، غیرجمہوری سیاست نہیں کر سکتی، ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں‘۔
ان کے مطابق ’آج پاکستان کے عوام کٹھ پتلی راج بھگت رہے ہیں، سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں اور اس نالائق، نااہل وزیراعظم کا بوجھ اٹھا رہے ہیں‘۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمارا آپ سے وعدہ ہے کہ ہم گاؤں گاؤں، شہر شہر پہنچنے والے ہیں، ہم جدوجہد اور محنت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’میں پیپلز پارٹی کے صوبائی عہدیداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ تیار رہیں، میں آ رہا ہوں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ’ہم اس ملک کے کونے کونے میں جائیں گے، جہاں میں نہیں پہنچ سکا وہاں صدر زرداری موجود ہوں گے، جہاں صدر زرداری نہیں وہاں فریال تالپور ہوں گی، جہاں فریال تالپور نہیں پہنچ سکیں وہاں بی بی آصفہ بھٹو زرداری پہنچیں گی‘۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اب دیواروں پر لکھا جا چکا ہے کہ کٹھ پتلی کو جانا ہو گا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اس ملک میں کبھی آر او الیکشن تو کبھی آر ٹی ایس کا الیکشن کرایا گیا، کبھی کسی چوہدری تو کبھی کسی نثار کو استعمال کیا گیا اور جمہوریت پر حملے ہوتے رہے، جمہوریت کو نقصان پہنچایا جاتا رہا اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا مارا گیا اور پاکستان کے عوام سے جمہوریت چھینی گئی۔
انھوں نے مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جو استعفیٰ دینے اور الیکشن نہ لڑنے کے حق میں تھے وہ بھی الیکشن کے مزے کر رہے ہیں اور الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں‘۔
ان کے مطابق ہم نے سینیٹ، ضمنی الیکشن سمیت بلدیاتی انتخابات تک میں ان کو شکست دی ہے اور انشااللہ اگلا وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ پیپلزپارٹی سے ہوں گے۔
’ہماری حکومت کے بعد این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد چھوڑ دیا گیا‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’آج پاکستان میں جمہوریت بس نام کی رہ گئی ہے، نہ اس میں بولنے کی آزادی ہے، نہ جینے کی آزادی ہے، نہ سانس لینے کی آزادی ہے، شہید بی بی آپ کا پاکستان تو معاشی طور پر بھی نقصان میں ہے اور غریب عوام لاوارث ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ شہید بی بی آپ کہتی تھیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور ہم نے جمہوریت کو بحال بھی کیا۔
سنہ 1973 کے آئین، اسلامی جمہوری وفاقی نظام اور جمہوریت کی بحالی کے لیے بے نظیر بھٹو کی جو 30 سالہ جدوجہد تھی، وہ ہم نے 18 ویں ترمیم کی صورت میں بحال کردی تھی، ہم نے پارلیمان کو تمام اختیار دے دیے تھے اور تاریخ میں پہلی بار پارلیمان کی مدت بھی پوری کی تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم نے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو معاشی حقوق دیے لیکن ہماری حکومت جانے کے بعد 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا جبکہ موجودہ حکومت تو صوبوں سے حقوق چھیننا اور صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں لیکن ہم ان کو اجازت نہیں دیں گے‘۔
بلاول کے مطابق ’ملک بھر کے عوام کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ خان صاحب کی حکومت نہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، نہ صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے نہ عوام کی آزادی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے‘۔
ان کے مطابق جب پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تو دنیا بھر میں کسادبازاری اور مالی بحران تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کو کھڑا کردیا تھا، لوگوں کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے‘۔
’صدر، وزیر اعظم دہشتگردوں سے ڈیل کی بھیک مانگ رہے ہیں‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا، شہید بی بی نے انتہاپسندی اور دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکاری تھی تو پیپلزپارٹی نے انہی دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تھا، ہم نے ریاست پاکستان کی رٹ قائم کی تھی، ہم نے پاکستان کا جھنڈا سوات اور وزیرستان میں لہرایا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ہمارے شہدا اور اے پی ایس کے بچوں کے خون پر سودا کیا جا رہا ہے، ہمارے افسران اور پولیس اہلکاروں کے خون سے سودا کیا جا رہا ہے، انہی دہشت گردوں کے سامنے صدر پاکستان اور وزیراعظم جھک چکے ہیں، وہ ڈیل کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس جلسے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی اور انھوں نے مختصر خطاب بھی کیا۔
آصف زرداری نے اپنے مختصر خطاب میں کیا کہا؟
آصف زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو وعدہ میں نے بی بی صاحبہ سے کیا تھا وہ میں آہستہ آہستہ پورا کر رہا ہوں‘۔ آصف زرداری کے مطابق ’وہ وقت دور نہیں جب آپ کی حکومت دوبارہ آئے گی، آپ کی تقدیر بلاول بدلے گا، بلاول غریبوں کی تقدیر بدلے گا‘۔
سابق صدر نے کہا کہ ان کے مطابق ہم امیر ملک ہیں مگر ان کی عقل نہیں ہے۔ اگر عقل ہو تو آپ غریبوں کی حالت بدل سکتے ہیں۔ مگر یہاں وقت اور سوچ کی کمی رہتی ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے لے کر میرے دورِ اقتدار تک اور اب سندھ کی صوبائی حکومت میں صرف عوام کی خدمت کی گئی ہے۔ یہی ہماری سوچ اور ہمارا منشور بھی ہے‘۔



