اہم خبریںپاکستان

بے نظیر بھٹو کے قتل کا معمہ 13 برس بعد بھی حل نہ ہو سکا

راولپنڈی: سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے لیاقت باغ میں قتل کو 13 برس بیت گئے لیکن یہ معمہ آج بھی حل نہ ہو سکا۔

اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیربھٹو کا قتل ملکی تاریخ کے بڑے سانحات میں سے ایک ہے۔

بینظیر قتل کیس انسداد دہشتگردی کی عدالت میں 9 سال 8 ماہ اور 4 دن چلا اور 8 چالان پیش کیے گئے۔ استغاثہ کی جانب سے 6 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے صحافی مارک سیگل نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا کیس کی سماعت کے، دوران آٹھ جج تبدیل ہوئے جب کہ دوران ٹرائل زرداری فیملی ،قمر زمان کائرہ کو بھی 10 بار، نوٹس بھیجے گئے لیکن پیپلزپارٹی کی جانب سے ایک بار بھی کوئی پیش نہ ہوا۔

2017 کو کیس کا کے فیصلے میں گرفتار ملزمان اعتزاز شاہ، حسنین گل، رفاقت ، شیر زمان اور رشید احمد کو بری کرنے کا حکم دیا گیا۔

سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد سترہ سترہ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائیں گئی جب کہ سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے کر تمام زمین ضبط کرنے کے حکم سنایا گیا۔

جائے وقوعہ کو دھو کر ثبوت ختم کرنے کے الزام میں گرفتار دونوں پولیس افسران اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور سزا کا فیصلہ معطل ہو گیا جس کے خلاف پیپلزپارٹی نے اپیل بھی نہیں کی۔

پانچ ملزمان میں سے شیر زمان اور اعتزاز شاہ بری ہوکر گھر جا چکے ہیں۔ ملزم رفاقت لاپتہ ہے جس کو جیل حکام نے رہا کردیا لیکن والدین کا کہنا ہے وہ آج تک گھر نہیں پہنچا جبکہ رشید اور حسنین گل نقص امن اور اسلحہ بارود کے کیسز میں جیل میں ہیں۔

12جنوری 2021 کو بینطیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی، ملزمان، ایف آئی اے کی مجموعی طور پر سات اپیلوں سماعت ہو گی۔

المیہ یہ ہے کہ اس کیس سے جڑی شخصیات جن میں بینظیر بھٹو کے سیکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ، مرکزی ملزم بیت اللہ محسود،ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چودھری ذوالفقار کو چن چن کر قتل کردیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button