پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر براہ راست مزاکرات کریں : امریکا : کنٹرول لائن پر مکمل جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں : اقوام متحدہ

نیویارک ،اسلام آباد : امریکا اور اقوام متحدہ نے پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کا خیرمقدم کیا ہے ۔امریکا نے پاکستان اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر امن برقرار رکھنے کے لیے جنگ بندی کے دو طرفہ معاہدے کی پاسداری کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے ۔امریکا کا مزید کہنا ہے کہ ہم کشمیر اور دیگر معاملات پر بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت کی حمایت کرتے ہیں ۔ واشنگٹن میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر براہِ راست بات کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ترجمان سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دونوں فریقین کے درمیان بہتر روابط کی جاری کوششوں، ایل او سی پر کشیدگی اور پر تشدد واقعات کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک امریکا کے کردار کی بات آتی ہے تو ہم مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست بات چیت کی حمایت جاری رکھیں گے ، ہم یقینی طور پر اعلان کردہ سمجھوتے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔نیڈ پرائس نے کہا کہ وہ اور جو بائیڈن حکومت کے دیگر عہدیدار دونوں پڑوسی ممالک پر کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ سے زور دے رہے ہیں جب امریکی صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اس پوڈیم سے مجھے اور اس حکومت کے دیگر عہدیداران کو کہتے سنا ہوگا کہ ہم نے دونوں فریقین سے ایل او سی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی جانب واپس جانے کا مطالبہ کیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم اتحادی ہے جس کے ساتھ ہمارے بہت سے مشترکہ مفادات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر زیادہ توجہ دیتے رہیں گے ، ہم پاکستانیوں پر زور دیتے ہیں کہ مشترکہ مفادات کے تمام پہلوئوں میں تعمیری کردار ادا کریں، جس میں افغانستان، کشمیر اور ہمارے دیگر مشترکہ مفادات شامل ہیں۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایل او سی جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کی طرف سے جاری مشترکہ بیان سے حوصلہ ملا۔انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ امید ہے دونوں ممالک میں مزید بات چیت کی راہ ہموار ہوگی۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر نے بھی سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس پیشرفت کومزید آگے بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر جنگ بندی جنوبی ایشیا میں امن اوراستحکام کیلئے مثبت پیشرفت ہے ، جنوبی ایشیا میں وسیع تر امن اور استحکام ہم سب کے مفاد میں ہے ۔ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ پاکستان اوربھارت کی افواج کے مشترکہ بیان کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ بات چیت کے لیے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کو اپنایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بورکیز نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اقدار کے مظہر اس معا ہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ صدر کے ترجمان برینڈن ورما نے ریگولر بریفنگ کے دوران وولکان بوزکیز کا وہ پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے ہونے والے معاہدے کا دلی طور پر خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کے بیان کردہ معاہدہ سے ایک دوسرے کے بنیادی ایشوز اور تحفظات کو حل کرکے پائیدار امن کے حصول میں مددملے گی جو دیگر ممالک کے لئے ایک مثال ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اقدار کا مظہر ہے ۔




