وزیراعظم کا ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

0

وزیر اعظم شہباز شریف نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کرانے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز معروف صحافی اور اینکر ارشد شریف کو کینیا میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کرانے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کے سربراہ حقائق کے تعین کے لیے سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی رکن شامل کر سکیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ مرحوم ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کے اصل حقائق کے تعین کے لیے کیا ہے۔

بعد ازاں، سعودی عرب سے جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ کل کینیا میں پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کے قتل کا جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے وہ قابل مذمت ہے اور پاکستان کے عوام ان کی موت پر انتہائی افسردہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اعلیٰ عدالتی کمیشن سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ واقعہ کو ہم سب کے لیے قابل افسوس ہے، اس کی بے لاگ اور شفاف تحقیق ہوگی اور حقائق پوری قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کی تھی اور کینیا کے صدر سے اس حوالے سے فون پر بات کرتے ہوئے فوری تحقیقات پر زور دیا تھا۔

سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بھی ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

عمران خان نے ارشد شریف کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ارشد شریف کے بہیمانہ قتل پر صدمہ ہوا جس نے سچ بولنے کی آخری قیمت اپنی جان کی صورت میں ادا کی، انہیں ملک چھوڑ کر بیرون ملک روپوش ہونا پڑا لیکن وہ طاقتوروں کو بے نقاب کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر سچ بولتے رہے، آج پوری قوم ان کی وفات پر سوگوار ہے‘۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ ’ارشد شریف کے اپنے بیانات اور دیگر ذرائع سے ملنے والے شواہد کی جانچ کے لیے ایک مناسب عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہیے‘۔

 

پاکستان کی صحافی برادری نے بھی معروف صحافی کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کی تشکیل کی درخواست پر تحقیقات کے لیے فوری جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی تھی۔

واضح رہے کہ کینیا کی پولیس نے پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر ارشد شریف کے قتل کے بارے میں جاری بیان میں کہا تھا کہ پولیس نے ان کی گاڑی پر رکاوٹ عبور کرنے پر فائرنگ کی۔

نیشنل پولیس سروس (این پی ایس) نیروبی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’50 سالہ پاکستانی شہری ارشد محمد شریف گاڑی نمبر کے ڈی جی 200 ایم پر سوار مگادی، کاجیادو کی حدود میں پولیس کے ایک واقعے میں شدید زخمی ہوگئے تھے‘۔

کینیا کی پولیس نے واقعے کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے بیان میں مزید کہا کہ ’این پی ایس اس بدقسمت واقعے پرشرمندہ ہے، متعلقہ حکام واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں تاکہ مناسب کارروائی ہو‘۔

کینیا کے میڈیا میں فوری طور پر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا واقعہ پولیس کی جانب سے شناخت میں ’غلط فہمی‘ کے نتیجے میں پیش آیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کی جس پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ارشد شریف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.