یوم سیاہ :مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی رہنماؤں کے پوسٹرچسپاں
سرینگر : بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیاں جاری،درجنوں نوجوان گرفتار،پرسوں یوم سیاہ منانے کیلئے مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ پاکستانی رہنماؤں کے پوسٹر چسپاں کردیئے گئے ،ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر مظالم کو ناقابل برداشت قراردے دیا،کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ وادی کے کئی علاقوں میں محاصرے اور گھر گھر تلاشی کے آپریشن سے رہائشیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیاگیا،قابض فوج نے سرینگر میں 27اکتوبر کا یوم سیاہ اور مظاہرے روکنے کیلئے 3روز قبل ہی سکیورٹی کے نام پر شہریوں پر زندگی تنگ کردی،بھارت کے غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بانڈی پورہ ، بڈگام اور دیگر علاقوں میں پاکستانی رہنماؤں کے پوسٹر چسپاں کر دیئے گئے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ پوسٹر جموں وکشمیر لبریشن الائنس کی طرف سے لگائے گئے اور ان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کی تصاویر اور کشمیر کے حوالے سے ان کے بیانات موجود ہیں، پوسٹروں کے ذریعے کشمیریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے 27اکتوبر کو یوم سیاہ منائیں،مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیرقانونی طورپر نظر بند جماعت اسلامی ضلع بانڈی پورہ کے صدر سکندر ملک اور تحصیل صدر علی شیخ کو ضمانت ملنے کے بعد سینٹرل جیل سرینگر اور سب جیل بارہمولہ سے رہا کر دیا گیا،انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی کے بھارتی منصوبوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی کررہی ہے وہ انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے ،نہتے مسلمانوں کے حقوق کو بری طرح پامال کرنا دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہے ،دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست بہار کے علاقہ ساسا رام میں انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کا انتظار ملک برسوں سے کر رہا تھا اور اس کی دوبارہ بحالی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے کہااپوزیشن پارٹیاں کشمیر میں 370 کا فیصلہ پلٹنا چاہتی ہیں۔