اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر کی قیادت میں اکڑا کیمپ کے علاقے میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

17

گوادر24جولائی ۔ اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر کی قیادت میں اکڑا کیمپ کے علاقے میں ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے بنیادی مسائل ضلعی انتظامیہ کے سامنے رکھے۔ اس عوامی فورم کا مقصد شہریوں کو براہ راست ضلعی افسران سے رابطہ فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا فوری حل یقینی بنانا تھا۔کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے متعدد اہم مسائل اٹھائے گئے، جن میں پلری لنک روڈ کی عدم تکمیل، گوادر کے لیے موبائل نادرا وین کی فراہمی، مقامی اسکولوں میں سائنس کے اساتذہ کی کمی، گوادر شہر میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے شٹل سروس، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، عارضی بنیادوں پر پانی کی فراہمی کے لیے ٹریکٹر بوذر، اور اکڑا کیمپ تک آنے والی خستہ حال سڑک کی مرمت شامل تھے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے موقع پر ہی متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔ سائنس اساتذہ کی تعیناتی اور طلبہ کے لیے شٹل سروس کا معاملہ آئندہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کے اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا۔ کییسکو (QESCO) کو ہدایت دی گئی کہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول مقامی ضروریات کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جائے۔اسی طرح، ایس ڈی او روڈز کو فوری طور پر اکڑا کیمپ تک سڑک کی مرمت کی ذمہ داری دی گئی، جبکہ پلری لنک روڈ پر ترقیاتی کاموں کی سست روی کی وجوہات — خواہ فنڈز کی کمی ہو یا ٹھیکیدار کی غفلت — معلوم کرنے کا ٹاسک بھی ان کے سپرد کیا گیا۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو ہدایت کی گئی کہ دور دراز علاقوں میں پانی کی عارضی فراہمی کے لیے ٹریکٹر ڈرِوَن بوذر فراہم کیا جائے۔ علاوہ ازیں، موبائل نادرا وین کی فراہمی کے لیے نادرا کے صوبائی سربراہ کو باقاعدہ خط ارسال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔کھلی کچہری کے دوران ضلعی انتظامیہ نے مشاہدہ کیا کہ تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کی موجودگی ایسے عوامی فورمز میں لازمی ہے تاکہ موقع پر ہی مسائل کا فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔ آئندہ کسی بھی محکمے کی غیر حاضری کی صورت میں براہِ راست
متعلقہ سیکرٹری کو مطلع کیا جائے گا۔اختتام پر ضلعی انتظامیہ نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ شہری مسائل کے حل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ہر سطح پر شفافیت، ذمہ داری اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔

Comments are closed.