ٹرمپ نے خود کو ایک غیر ذمہ دارانہ اور کنفیوز کردار کے طور پر پیش کیا ہے
ٹرمپ نے خود کو ایک غیر ذمہ دارانہ اور کنفیوز کردار کے طور پر پیش کیا ہے
ٹرمپ کی غیر سنجیدہ اور فرسودہ اقدامات کی کوششوں نے نا صرف دنیا بلکہ امریکہ کے لئے بھی شدید خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔
امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منافقت اور دو عملی پر مبنی رویہ نے دنیا میں امریکی کردار و معیار اور امریکی عزت کو کم کیا ہے۔
دنیا کی لیڈر شپ کے دعویدار امریکیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے!
امریکی جنگی پالیسیوں نے امریکہ کو یکسر بےنقاب کر دیا ہے۔
امریکہ دنیا کے لئے غیر محفوظ اور امن کا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔
اس وقت امن اور امریکی پالیسیاں دو الگ الگ باتیں قرار دی جا رہی ہیں۔
ایک مدبرانہ کردار کی بجائے اب دنیا کے لئے امریکہ کو ایک بدمعاش اور ایک جنگی ڈان کی حیثیت مل رہی ہے۔
غور کیا جائے تو یہ کامیابی بالکل بھی نہیں ہے ،
یہ بہت بڑی ناکامی ہے ، تاریخ لکھے گی کہ مسلم دشمنی میں ، مسلم اقتدار کے آنے کے خوف میں ، دور کالونیل اختیارات واپس نہ کرنے میں امریکہ نے بہت سے عالمی جنگی جرائم کر ڈالے ہیں جو انسانی تاریخ میں بھیانک جرائم کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ۔ جن پر آنیوالی امریکی آزاد نسلوں کو شرمندگی ہو گی اور وہ دنیا سے معذرت کریں گے ۔
دوسری جانب
مسلمانوں کی ایمانی کیفیت اور جذبہ جہاد سے نالاں یہودی اور صیہونی قوتیں ایک مرتبہ پھر خوفزدہ ہو چکی ہیں کہ خلافت عثمانیہ کو تاتار کرنے کے باوجود اور مسلمانوں کو مسلسل مشکلات اور پابندیوں میں جکڑنے کے بعد بھی مسلمانوں میں بوقت جنگ جذبہ شہادت کو ختم نہیں کیا جا سکا !
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی ترقی کی قابلیت بھی زمین بوس ہو چکی ہے نا ہی تجارتی ٹیرف پالیسی کامیابی سے ہمکنار ہو سکی نا ہی امیگرینٹس کے خلاف کارروائیوں کو پذیرائی مل سکی ۔ اب دنیا میں روس ، چین ، شمالی کوریا سمیت خودارادیت رکھنے والے ممالک نے ٹرمپ ٹیرف وار کو بھی شکست دے دی ہے اور ٹرمپ کا خوف بھی اتار پھینکا ہے۔
ٹرمپ کو پاک بھارت لڑائی کے معاملے میں بھی شکست ہوئی ،
اسرائیل اور ایران کے حوالے سے بھی شکست فاش ہوئی ہے ۔
رجیم چینج کا ، امریکی گھناونا اور انسان دشمن عمل بھی بری طرح ایکسپوز ہو چکا ہے ۔
ایران میں رضا پہلوی کو لانا ممکن نہیں ہو سکا اگرچہ بموں کی برسات بھی کر دی گئی ایران پر !
بھارت کو امریکی تھپکی اور اسرائیلی مدد کے باوجود کامیابی نہیں ملی ، امریکہ کو الٹی کر کے دوبارہ چاٹنا پڑا ۔
اب آج کے بعد چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر ابھر آیا ہے جس سے کسی ملک کو کوئی جنگی خطرہ نہیں ہے
چینی ، امریکی صدر کی طرح منافقت بھی نہیں کرتے !
امریکہ نے دنیا کو بتایا کہ عالمی قوانین لکھے ہوئے وہ الفاظ ہیں جنہیں صرف کمزور ممالک کو سنانے اور دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
طاقتور ممالک کے لئے یہ قوانین سوائے بے معنی الفاظ کے اور کچھ بھی نہیں ہیں۔ امریکی اصول کے مطابق دنیا میں صرف طاقت ہی سب کچھ ہے !
موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلمانوں کی نوجوان نسل کو یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ مسلم ممالک کی قیادتوں میں اکثریت امریکن پٹھو اور امریکن ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں لہذا مسلم ممالک کا ایک خاص حد سے زیادہ ترقی کرنا اور مضبوط ہونا ممکن نہیں ہے ۔
امریکہ نے دراصل گزشتہ چند ماہ میں عزت کمائی نہیں بلکہ گنوائی ہے اور بطور ملک، عالمی قوانین کو توڑنے کے جرائم کا مرتکب ٹھرا ہے !!
ڈاکٹر محمد احسن محمود کی وال سے
Comments are closed.