ضرورت پڑنے پر ترکی کیخلاف فوج میدان میں اتاری جا سکتی ہے، امریکا

0 35

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر ترکی کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے پوری طرح تیار ہیں،دوسری جانب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے کردوں کی حفاظت کا 400سالہ ٹھیکا نہیں لیا،شام میں محدودتعداد میں امریکی فوج تعینات رہے گی جو اردن کی سرحد اور آئل فیلڈ کی حفاظت پر معمور ہو گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر ترکی کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔پومپیو نے امریکی نیٹ ورکCNBC کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ واشنگٹن جنگ کو نہیں امن کو ترجیح دیتا ہے تاہم اگر فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ٹرمپ ایسا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔اس سے قبل شام کے معاملے پر امریکی صدر نے کہا تھا کہ شمالی شام میں جنگ بندی کی کچھ معمولی خلاف ورزیوں کے باوجود اس پرعمل درامد کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے خاتمے سے ایک دن قبل انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ترکی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ اس لیے وہ ترکی کو مزید پابندیوں کی دھمکی نہیں دینا چاہتے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکی غلط برتائوکا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکا اپنی مصنوعات پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا۔ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے ایک اجلاس کے دوران وائٹ ہائوس میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا نے کردوں سے ان کے تحفظ کے لیے400 سال خطے میں رہنے کا کبھی بھی کوئی عہد نہیں کیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ شام میں امریکی فوج کو نہیں رکھنا چاہتے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوجیوں کی محدود تعداد شام میں رہے گی۔ ان میں بعض کو اردن کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا جائے گا جب کہ دیگر بعض آئل فیلڈز کی حفاظت کریں گے۔ادھر ترکی کے عسکری ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ انقرہ اور واشنگٹن کے بیچ 120 گھنٹوں کے لیے طے پائی جانے والی فائر بندی منگل کے روز شام کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ اس فائر بندی کا مقصد یہ تھا کہ کرد جنگجو شمال مشرقی شام میں اپنے ٹھکانوں کو خالی کر کے چلے جائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.