اہم خبریںپاکستان

پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر افغان جنگ کے باعث آیا،اب جنگ بندی کے امکانات موجود ہیں، وزیر اعظم

ڈیووس (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر افغان جنگ کے باعث آیا،افغانستان میں جنگ بندی کے امکانات موجود ہیں ، دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، خودکش دھماکوں کے باعث پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک تصور کیا جانے لگا،ہم نے کچھ اہم فیصلے کیے کہ ہم صرف امن کے ساتھ شراکت داری کریں گے اورکسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے، پاکستان میں سیاحت واپس آئی اور اسے 2020 میں دنیا کی بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا،حکومت سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ،ہماری کوشش ہے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔ بدھ کو سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے 2 تنازع میں حصہ لیا جس میں 1980 کی دہائی میں افغان جہاد جبکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی اور ان دونوں کی ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑی۔انہوں نے کہا کہ پہلے تنازع میں سوویت کی جانب سے افغانستان چھوڑنے کے بعد عسکریت پسند گروپ، فرقہ وارانہ گروپ، کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر فروغ پایا جس نے ہمارے معاشرے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور خودکش دھماکوں کے باعث پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک تصور کیا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے کچھ اہم فیصلے کیے کہ ہم صرف ‘امن کے ساتھ شراکت داری کریں گے’ اور ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں امن کے قیام کے بعد پہلا فائدہ سیاحت کے شعبے میں ہوا کیونکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقام ابھی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کئی قدیم ترین تہذیبوں کا مسکن ہے جس میں انڈس ویلی سویلائزیشن ایک ہے جو 5 ہزار سال پرانی ہے، اس کے علاوہ یہاں 4 مذاہب کے مقدس مقامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے سیاحت دوست ممالک میں سے ایک ہیں اور یہاں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت واپس آئی اور اسے 2020 میں دنیا کی بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا لہٰذا ‘ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان سیاحت سے بہت زیادہ ریونیو اکٹھا کرسکتا ہے۔اپنی حکومت کے دیگر اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور صنعتوں کو مراعات فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عالمی بینک کے کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے والے انڈیکس میں اولین ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل ہوا، تاہم اس میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سال کے عرصے میں غیرملکی سرمایہ کاری 200 فیصد سے زائد تک پہنچ گئی۔انہوں نے یہ بات دہراتے ہوئے کہ ہم دوبارہ تنازع میں نہیں جائیں گے کہا کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے علاوہ اب ہم امریکیوں کے ساتھ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ بندی کے امکانات موجود ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو وسطی ایشیا میں اقتصادی راہداری کھولنے میں مدد ملے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button