نیب نے عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا

0 40

اسلام آباد :  نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ایک نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس دینے کیخلاف انکوائری کے علاوہ، بیورو کا لاہور آفس وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف ان انکوائریز کی تصدیق کے مرحلے سے بھی گزر رہا ہے جن کے مطابق انہوں نے منتخب افراد کو سرکاری ٹھیکے مہنگے نرخوں میں دیے ہیں۔

تاہم، اب تک نیب کے پاس عثمان بزدار کیخلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں (جو ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں) کیخلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ نیب کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم اب تک وزیراعلیٰ پنجاب کو گرفتار کرنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ کے دعوے کے برعکس، نیب کو ان کے اثاثوں کی تفصیلات موصول نہیں ہوئیں جو وزیراعلیٰ سے اثاثوں کے خصوصی فارم پر طلب کی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیب نے کچھ ایسے بیوروکریٹس سے بھی اثاثوں کی تفصیلات مانگی ہیں جو وزیراعلیٰ پنجاب سے وابستہ ہیں۔

شراب کے لائسنس کیس میں نیب کو موصول ہونے والی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ لائسنس کیلئے 7؍ کروڑ روپے رشوت دی گئی تھی۔ نیب افسر نے کہا کہ لائسنس 6؍ ماہ کیلئے دیا گیا تھا لیکن اس کی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل ہی اسے منسوخ کر دیا گیا تاکہ لائسنس حاصل کرنے والے کو عدالت سے حکم امتناع کے حصول میں مدد مل سکے۔

نیب افسر نے دعویٰ کیا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لائسنس کا عرصہ ختم نہیں ہوگا۔ نیب ذرائع اعتراف کرتے ہیں کہ باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ کیخلاف کچھ نہیں ملا لیکن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل اکرم اشرف گوندل، جو نیب کے وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، بہت ہی واضح ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ لاہور کے ایک نجی ہوٹل کو جاری کیے جانے والے شراب کے لائسنس کیس میں تحریری طور پر کچھ موجود نہیں جس سے وزیراعلیٰ کے ملوث ہونے کا پتہ چل سکے۔

جس کیلئے نیب ان سے تفتیش کر رہا ہے۔ سرکاری دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئےے کہا گیا تھا کہ فائلوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب ڈائریکٹر جنرل اکرم اشرف گوندل، جو وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کو ان کے پرنسپل سیکریٹری اور پنجاب کے چیف سیکریٹری کے ذریعے ملوث کر رہے تھے اور وزیراعلیٰ کے پاس منظوری اور معلومات کیلئے سمریاں بھیج رہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دستاویزات سے اگرچہ یہ واضح ہے کہ وزیراعلیٰ خود کو سمریوں سے دور رکھے ہوئے تھے اور کوئی بات تحریری طور پر نہیں لا رہے تھے، لیکن وعدہ معاف گواہ نے نیب کو بتایا ہے کہ بزدار کے دفتر میں انہیں پانچ چھ مرتبہ طلب کیا گیا تھا اور لائسنس جاری کرنے کو کہا گیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.