ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے ،ٹیکس وصولی کے نظام میں جدت لانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، یوسف حیدر شیخ
کوئٹہ( این این آئی )چیف کمشنر انکم ٹیکس بلوچستان یوسف حیدر شیخ نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے ،ٹیکس وصولی کے نظام میں جدت لانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں،بزنس کمیونٹی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے ،ایف بی آر قانونی طریقے سے تجارت کرنے والوں کا تحفظ کرتا ہے،یہ بات انہوں نے انلینڈ ریونیوآفس میں خود کار ٹیکس نظام سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرکمشنر انلینڈ ریونیو حضور بخش لغاری، ایڈیشنل کمشنر رحمت اللہ خان درانی، ایڈیشنل کمشنر ہیڈ کواٹر عبدالمالک درانی نے خطاب کیا جبکہ اراکین چیمبر آف کامرس،کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈر اینڈ سمال انڈسڑی سمیت بزنس کمیو نٹی ،ہول سیلرز ،ریٹیلرز،تاجروں نے شرکت کی چیف کمشنر یوسف حیدر شیخ نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل انوائسنگ سسٹم صارفین کی جانب سے خریداری کی ریکارڈنگ کا ایک خوس ساختہ نظام ہے جو دکاندارکے کمپیوٹرائزڈ نظام اور ایف آر سے منسلک ہوگا اس سسٹم کو دکانوں میں انسٹال کرنے لے لئے کسی مشین کی ضرورت نہیں یہ محض ایک ایپ کے ذریعے ایف بی آر سے منسلک ہو جائے گا،جبکہ صارفین دکاندار کی جانب سے دی جانے والی رسید سے کیو آر کوڈ کے ذریعے دیکھ سکیں گے انہوں نے کتنا ٹیکس ادااس نظام کو لگانے سے ایف بی آر کے نمائندے بار بار دکانوں کی انسپکشن بھی نہیں کریں گے کمشنر انکم ٹیکس بلوچستان حضور بخش لغاری نے کہا کہ ٹیکسز کی ادائیگی قومی فریضہ ہے ٹیکسز کی مد میں جمع ہونے والی ر قم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہے عوام اور بزنس کمیونٹی اپنی ذمہ داری کا احسا س کرتے ہوئے ٹیکسز کی ادائیگی یقینی بنائیںایف بی آر تاجر برادری کے مسائل کے حل کئی لئے بھی سنجیدہ کوششیں کررہا ہے اور اس ضمن میں اقدامات بھی کئے جارہے ہیں تاجر برادری کے گلے شکوے جلد دور کئے جائیں گے ٹیکس نظام میں وسیع پیمانے میں بہتری کا عمل جاری ہے اس کے ثمرات سے ٹیکس دہندگان کو سہولت میسر ہوگی ایڈیشنل کمشنر زون ون رحمت اللہ خان درانی نے رئیل ٹائم انوائسنگ سسٹم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس سسٹم کا مقصد ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کا آسان بنانا ہے انہوں نے بتایا کہ اس سسٹم سے منسلک خریداروں کو شاپنگ میں خصوی رعایت ملے گی اور اس ایپ کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ٹیکس دہندگان اس امر کا اندازہ لگا سکتے ہیں کے انکا ٹیکس قومی خزانے میں ہی جمع ہورہا ہے یا نہیں انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں اس نظام سے بڑے شاپنگ مالز کو منسلک کیا جارہا ہے جبکہ دوسر مرحلے میں ہوٹلز ریسٹورانٹس بھی اس سے منسلک کئے جائیں گے انہوں نے بتایا کہ اب تک اس نظام سے 100 کے قریب بڑے برانڈز کو اس سے منسلک کریا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی ادائیگی قومی فریضہ ہے اس حوالے سے بزنس کمیو نٹی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جلد از جلد اس نظام سے اپنے کاروبار کو منسلک کریں۔