ملک بچانے کیلئے مسلط حکمرانوں کو نکالنا ہوگا، فضل الرحمٰن
پشاور; جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک کو بچانے کیلئے موجودہ حکمرانوں کو نکالنا ہوگا کیونکہ یہ نااہل حکمران اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ان کی ہماری تہذیب سے کوئی وابستگی نہیں،ہم ملک کو آئین و قانون کی بالادستی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،ہمیں نیب اور جعلی حکومت کے حربوں کا کوئی خوف نہیں، ہم بے نیاز ہوکر ان کیخلاف میدان میں لڑتے رہیں گے۔
تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کا آئین قرار دیتا ہے کہ اسلام اس ملک کا دستور ہوگا اور پارلیمنٹ میں قرآن وسنت کے مطابق قوانین بنیں گے مگر بدقسمتی سے74 سال میں ہماری پارلیمنٹ میں قرآن وسنت کے مطابق کوئی قانون سازی نہیں ہوئی،ہمیں اپنے ملک اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا اگر آج بھی کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے۔
آج بھی انکی عزت و ناموس پر حملے ہورہے ہیں تو پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ پھر 70سال تک ہم نے کشمیریوں کی کیا جنگ لڑی ہے کیونکہ آج بھارت نے عملاً کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا لیکن ہم پسپائی کی طرف جارہے ہیں کل ہم سوچ رہے تھے کہ سرینگر کو کیسے لیں گے آج ہمیں فکر ہے کہ مظفرآباد کو کیسے بچائیں گے۔
70سال سے فلسطینی اپنی سرزمین کی جنگ لڑرہے ہیں ہم فلسطینیوں کیلئے آواز اٹھانے کے بجائے مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں بلکہ ہم اسرائیل کے ناجائز قبضہ کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم اپنی آزادی سے وفا کررہے ہیں نہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کیساتھ، ہمیں اپنے مقصد کو سمجھنا ہے۔
ہم نے ناجائز حکمرانوں اور انکی دھاندلی کو چیلنج کیا ہے یہ ہزار مرتبہ نیب کو ہمارے خلاف استعمال کریں ہم ان کے حربوں سےڈرنے والے نہیں ، اس وقت ہمیں اپنے تمام مفادات سے بالاتر ہوکر صرف ملکی مفاد کیلئے بے نیاز ہوکر حکمرانوں کیخلاف میدان میں لڑنا ہے اور ان ناجائز حکمرانوں کو نکالنا ہے ،موجودگی حکمرانوں نے ملک کو تباہی سے دوچار کردیا ہے، معیشت تباہ، کاروبار ٹھپ، مہنگائی عروج پر ، غریب اور مزدور رو رہے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں ۔