
کو ئٹہ 14دسمبر :صوبائی وزیر بہبود آبادی سردار عبدالرحمان کھیتران کی زیر صدارت آبادی میں کمی کے لیے قومی ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سی سی آئی،کونسل آف کامن انٹرسٹ کی سفارشات مرتب کرتے ہوئے اس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی،سیکریٹری پاپولیشن ویلفئیر ڈپارٹمنٹ منظور احمد زہری، ممبر ٹاسک فورس آن پاپولیشن ڈاکٹرامیر بخش،ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفئیر اورنگزیب خان اور پی پی ایچ آئی کے نمائندگان سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔جس میں بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں میں اس بابت شعور آگاہی پر خصوصی توجہ دی گئی۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے لوگوں میں شعور آگاہی کے لئے آگاہی مہم چلائی جائیگی۔اس آگاہی مہم میں محکمہ صحت،محکمہ بہبود آبادی کے اسٹاف کی ٹریننگ،مانع حمل ادویات کی فراہمی،این جی اوز کو تربیت کی فراہمی کالجوں اور یونیورسٹی کے طلباء وطالبات میں شعور بیدار کرنے کی حکمت عملی طے کی گئی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بہبود آبادی نے کہا کہ اس بابت شعور اجاگر کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر لوگوں سمیت علمائے کرام کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لئے محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کا کردار ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔جس کے لیے موجودہ حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جامع منصوبہ بندی پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ ہے کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کو تشکیل دیتی ہے۔وزیر بہبود آبادی نے خاندان میں وقفہ ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی سے بچوں کی اچھی پرورش متوقع ہوتا ہے جبکہ اس پروگرام کے تحت بلوچستان کے عوام کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت،پی پی ایچ آئی اورمحکمہ بہبود آبادی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے موضوع پر تربیتی ورکشاپ اور سیمینار کے انعقاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ تاہم اجلاس کے اختتام پرسردار عبدالرحمان نے کہا کہ آج کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ہیں ان کی روشنی میں لائحہ عمل تشکیل دی جائے اور آئندہ کے اجلاس میں اس بابت کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے۔



