اہم خبریںبلوچستان

لیویز فورس کی نگرانی میںلورالائی شہر سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کلی مہوال مائنز ایریا غوایہ پہاڑ کے دامن میں سپورٹس (میلہ ) کا انعقاد کیا گیا

لورالائی13دسمبر:۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کی خصوصی ہدایت پر ضلع کونسل لورالائی اور لیویز فورس کی نگرانی میںلورالائی شہر سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کلی مہوال مائنز ایریا غوایہ پہاڑ کے دامن میں سپورٹس (میلہ ) کا انعقاد کیا گیا ۔میلہ میں ڈپٹی کمشنر لورالائی اسد اللہ کاکڑ ،ایڈیشنل کمشنر ژوب ڈویژن محمد ایوب ،لیفٹیننٹ کرنل فرنٹئرکور رب نواز ،ایس ایس پی طارق جواد ، سابق چیئر مین ضلع کونسل شمس حمزوزئی ،ڈسٹر کٹ پروگرام منیجر BRSP ابراہیم آغا،ایکسین پی ایچ ای سید جہانگیر شاہ ،ڈی ایچ او ڈاکٹر شبیر مینگل ،ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل کلیم اللہ مندوخیل ،رسالدار لیویز فورس نصیب اللہ ترین اور قبائلی عمائدین ،ِ علاقے کے لوگوں اور مائنز لیبر نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس موقع پر مختلف کھیلوں فٹبال ،کرکٹ ،رسہ کشی ،کشتی ،دوڑ،پتھر پیکھنا، قبائلی رقص اور دیگر کھیلوں کے مقابلے ہوئے ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی اسداللہ کاکڑ نے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ معد نیات علاقے کے لوگوں کے لئے روز گار سب سے بڑا ذریعہ ہے غوایہ پہاڑ کلی مہوال میں فلورائیڈ کے کانوں میں00 12 تک کے مزدور کام کرتے ہیں جن کو سہولیا ت کی فراہمی اور ان کے جانوں کی حفاظت حکومت اور مائنز اونرز کی ذمہ داری ہے اور آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کیا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کھیل انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کے لئے اہم ہے اور معاشر تی برائیوں کے خاتمے کا سبب بھی ہے کھیلوں کے فروغ کے لئے اقدامات کریں گے اور کھیل سے وابستہ لوگوں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے سابق چیئر مین ضلع کونسل اور شمس فاؤنڈیشن کے سربراہ شمس حمزہزئی نے کہا کہ ضلع لورالائی میں امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ دور دراز علاقے اور مائنز لیبر کے لئے اس طرح کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس سے یہاں کے لوگوں کہ سیر وتفریح اور ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملا ہے انہوں نے کہا کہ غوایہ پہاڑ میں مائنز سے علاقے میں روز گار کے مواقع پیداہوئے جس سے علاقہ ترقی کرے گا تاہم یہاں پر لوگ ناجائر طور پر الاٹمنٹ کی کوشش کرتے ہیں جسے علاقے کے لوگ قطعابردشت نہیں کریں گے اس موقع پرمیڈ یکل کیمپ بھی لگایا گیا تھا جس میںچار ڈاکٹر ایک لیڈی ڈاکٹر اور پیر امیڈیکل سٹاف نے حصہ لیا اور 300 مریضوں کا چیک اپ کیا گیا اور انھیں ادویات دی گئیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button