اہم خبریںبین الاقوامی

شام میں ترکی کا آپریشن، کرد ملیشیا کاجواب،10ترک شہری جاں بحق،35زخمی

انقرہ: شامی کرد ملیشیا نے ترک آپریشن کے جواب میں شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ترکی کے 10شہری جاں بحق ہو گئے جبکہ 35سے زائد زخمی بھی ہوئے ہیں،زخمیوں کو طبی امداد کیلئے اسپتال بھیج دیا گیا ہے ،حملے میں ترکی کی متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے شامی سرحدی علاقے پر کرد ملیشیا کے حملے میں 10 ترک شہری جاں بحق ہوگئے۔ شمال مشرقی شام کیکرد ریجن میں ترکی کا فوجی آپریشن جاری ہے جس کے بعد ترکی کے شامی سرحدی صوبے ماردین کے شہر نصیبین پر شامی کرد ملیشیا نے راکٹ حملے کیے ہیں۔ شامی کرد باغیوں کے راکٹ حملے میں 10 ترک شہری ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ حملے میں متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب ترک صدر طیب اردوان نے ایک بار پھر آپریشن روکنے کیلئے عالمی دبا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دبا کے باوجود شمالی شام میں آپریشن نہیں روکیں گے، مخصوص لوگ جوبھی کہیں ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ایک تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ہمارے کرد بھائیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہے۔ قبل ازیں ترک افواج کے شام کے شمالی علاقوں میں کرد ملیشیا کیخلاف زمینی اور فضائی حملوں سے متعلق ترک وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آپریشن میں اب تک کرد ملیشیا کے 342 اہلکار مارے گئے ہیں، اس دوران ایک ترک فوجی ہلاک اور3 زخمی بھی ہوئے ہیں۔ترک فورسز نے کرد ملیشیا کے زیر اثر 11 گائوں اپنے قبضے میں بھی لینے کا دعوی کیا ہے۔یاد رہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے 9 اکتوبر 2019 کو شامی کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن پیس اسپرنگ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ترک صدر کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے فوری بعد ہی ترک فوج اور ان کے اتحادی شامی باغیوں نے فرات کے مشرقی علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی تھی اور کرد تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونٹس(وائی پی جی)کے زیر قبضہ علاقے تل ابیض میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button