امریکا کے بعد برطانیہ نے بھی راؤ انوار پر پابندیاں عائد کردیں

0 25

برطانیہ نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ضلع ملیر کے سابق سینئر سپرنٹینڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور ملک میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے نام سے معروف راؤ انوار احمد خان پر پابندیاں عائد کردیں۔

برطانیہ نے پاکستان میں مبینہ طور پر 190 سے زائد انکاؤنٹرز میں ملوث ہونے پر راؤ انوار پر پابندیاں عائد کیں، جس کی وجہ سے مبینہ طور پر 400 سے زائد ہلاکتیں سامنے آئیں۔

علاوہ ازیں برطانوی حکومت کی جانب سے گیمبیا کے سابق صدر یحیٰ جامع پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی پر سفری اور معاشی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

گیمبیا کے سابق آمر (ڈکٹیٹر)، جو دسمبر 2016 میں الیکشن میں شکست کے بعد ملک سے فرار ہوگئے تھے، عالمی طور فہرست میں شامل 10 افراد جبکہ مغربی افریقہ کی اقوام میں 3 افراد میں سے ایک ہیں۔

راؤ انوار پر امریکی پابندیاں

گزشتہ سال 11 دسمبر کو امریکا نے پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کے لیے کیں تھیں۔

امریکی محکمہ خزانہ سے جاری بیان کے مطابق راؤ انوار، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر کے طور پر متعدد جعلی پولیس انکاؤنٹرز کے ذمہ دار ہیں جن میں پولیس کے ہاتھوں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوار 190 سے زائد پولیس انکاؤنٹرز میں ملوث رہے جن میں 400 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں نقیب اللہ محسود کا قتل بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق راؤ انوار نے پولیس اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ٹھگوں کے نیٹ ورک کی مدد کی جو مبینہ طور پر بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، منشیات کی فروخت اور قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوار پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.