
اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے گمشدہ اور اغواء شدہ بچوں کیلئے الرٹ بڑھانے‘ جوابی ردعمل اور بازیابی کیلئے احکامات وضع کرنے کا بل منظور کرلیا ،اطلاق ملک بھر میں ہوگا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہاہے کہ بل کو ملک بھر میں لاگو کرنے کے حوالے سے جو کمی ہے اس کو سپیکر اپنے اختیار کے تحت درست کریں گے، بل کے تحت زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی ایجنسی برائے گمشدہ و اغواء شدہ اطفال کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا، ایجنسی کی نگرانی آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کے اختیار میں ہوگی۔ بدھ کو وفاقی وزیر انسانی حقق ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل 2020ء سینٹ کی جانب سے ترامیم کے ساتھ منظور کردہ صوت میں دستور کے آرٹیکل 70 کی شق دو کے تحت زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈرخواجہ آصف نے کہا کہ یہ بل وفاق کے علاقہ کے لئے ہے، ہمیں اس بل سے اتفاق ہے، اسلام آباد میں ہر اشارے پر زینب کھڑی ہے، ہمیں اس بل کی نیت پر شک نہیں تاہم بعض قانون سازی این جی اوز کے کہنے پر کی جارہی ہیں، وہ فنڈنگ کرتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کے سگنلز پر بھیک منگوانے کے باقاعدہ ٹھیکے ہوتے ہیں، اس حوالے سے بھی بل منظور ہوا ہے، اس پر عمل ہوتا تو یہ کام نہ ہوتا، اس بل کے محرک باہر جاکر ضرور چیک کریں کہ سات سال تک کی بچیاں اور بچے بھیک مانگتے ہیں۔ عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ ایجنڈا رات دس بجے جاری ہوا ہے جس کے بعد ہم نے ترامیم پیش کیں پھر کیسے چوبیس گھنٹے پہلے پیش کرتے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ بل منظور ہوگا تو اس پر عملدرآمد ہوگا، یہ پورے پاکستان میں نافذ العمل ہوگا، اس بل کو اس مرحلہ تک لانے کے لئے ایک سال لگا ہے۔ اس میں ترامیم کرنے کا کافی وقت تھا، بچوں سے زیادتی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس کو منظور کیا جائے۔ اس کے بعد سپیکر نے بل کی شق وار منظوری لی جس کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی۔ اس کے بعد شیریں مزاری نے بل منظوری کے لئے پیش کیا جس کی منظوری دے دی گئی تاہم خواجہ آصف کی بل کیلئے دی گئی ترامیم مسترد کر دیں گئیں اسپیکر نے کہاکہ بل پر ترامیم چوبیس گھنٹے پہلے جمع کرانا ضروری ہے،بل پر ترامیم گیارہ بجکر پچپن منٹ پر دی گئی۔زینب الرٹ بل کی منظوری کے دوران مولانا عبدالاکبر چترالی نے مخالفت کی اور نو نو کی زوردار آوازیں لگائیں ۔ اسپیکر نے کہاکہ صرف مولانا عبدالاکبر چترالی کی ہی آواز آرہی ہے۔وفاقی وزیر شیریں مزاری نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا اس بل کی منظوری پر شکریہ ادا کیا۔ا سپیکر نے کہا کہ اس بل کو ملک بھر میں لاگو کرنے کے حوالے سے جو کمی ہے اس کو سپیکر اپنے اختیار کے تحت درست کریں گے۔اس بل کے تحت زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی ایجنسی برائے گمشدہ و اغواء شدہ اطفال کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا۔ اس ایجنسی کی نگرانی آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کے اختیار میں ہوگی۔ یہ ایجنسی زینب الرٹ کو فعال بنانے ‘ ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کے اجراء کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے سمیت دیگر اقدامات کی ذمہ دار ہوگی۔ آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ (زارا ) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات تجویز کرے گا جبکہ زارا کی تمام کارروائیوں ‘ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر بچے کی محفوظ بازیابی تک اور اس کی بحالی تک کے تمام عمل کی نگرانی اس بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی پولیس افسر جو لاپتہ یا اغواء شدہ بچے کے معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر یا رکاوٹ پیدا کریگا اس کے لئے کم از کم ایک سال سے دو سال تک سزا اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ یہ قانون دفعہ 15 کے تابع کسی دیگر قانون میں مذکور کسی امر کے باوجود غالب طور طور پر موثر ہوگا۔ اجلاس کے دور ان موشن پکچرز آرڈیننس 1979ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے موشن پکچرز آرڈیننس (ترمیمی) بل 2020ء پیش کیا۔ اجلاس کے دور ان ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن آرڈیننس 2002ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل 2020ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کرنے کا بل پیش کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے آرڈیننس میں مزید ترمیم کرنے کے بل کا مقصد ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس 2002ء میں تبدیلیاں لانا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیوانی اپیلیں نمبر 1428 تا 1436 ‘ 2016ء میں اس کے 18 اگست 2016ء کے فیصلے میں لفظ وفاقی حکومت کی تشریح کرنے کی وجہ سے روزمرہ معاملات اور مینجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ کی تقرریاں وفاقی کابینہ کو بھیجی جارہی ہیں چونکہ وفاقی کابینہ کی ہدایت کی تعمیل کرتے ہوئے اس وزارت نے قوانین یا آرڈیننس میں ضروری ترامیم کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور لفظ وفاقی حکومت کو موزوں اتھارٹیز میں تبدیل کیا ہے۔ مذکورہ بالا اغراض کی مطابقت میں یہ بل اے پی پی سی ایس کی کارگزاری کو سہل بنانے اور اسے زیادہ بااختیار بنانے کے لئے متعارف کروایا جارہا ہے۔ آرڈیننس نمبر 80 مجریہ 2002ء کی دفعہ سات میں ترمیم کرتے ہوئے الفاظ وفاقی حکومت کو الفاظ وزیراعظم یا اس ضمن میں اس کی جانب سے مجاز کردہ شخص سے تبدیل کردیا جائے گا۔ آرڈیننس 2002ء نمبر 80 مجریہ 2002ء میں دفعہ دو میں شق (ہ ) حذف کردی جائے گی۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایکٹ 1973ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کردیا گیا ،علی محمد خان نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ترمیمی) بل 2020ء پیش کیا۔ اجلاس کے دور ان ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی نجکاری کا معاملہ مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ کشور زہرہ اور دیگر کے ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی احسن کارکردگی کے باوجود اس کی نجکاری سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کو اگر مزید چلاتے ہیں تو اس میں مزید انسانی وسائل اور ایکویٹی لگانی پڑے گی۔ اس لئے اس ادارے کو اصولی بنیادوں پر نجکاری میں لے جایا گیا ہے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام میں بلاسود قرضے دینے ہیں‘ روزگار پروگرام میں بھی سود سے پاک قرضے دیئے جارہے ہیں۔ کشور زہرا کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے سودی نظام سے نکلنا ہے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی میں بلاسود بنکاری کے ذریعے قرضے ملیں گے۔ 16 ارب 9 کروڑ کی ایکویٹی اس ادارے میں ڈالی گئی تھی۔ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا یہ ادارے چلانے ہیں۔ اب اس ادارے میں ایکویٹی کے بعد حکومت کے شیئر 62.5 فیصد سے کم ہو کر 9.68 ہوگئے ہیں۔ اس ادارے کو منافع بخش ادارہ تب آپ کہہ سکتے ہیں جب یہ اپنے وسائل سے منافع میں چلیں۔ امین الحق کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کر ریفر کردیا جائے تاکہ تفصیلی بات ہوسکے، اس پر سپیکر نے یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔




