پنجاب میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی: اعلیٰ سطحی اجلاس، “سکول سیفٹی مہم” کا آغاز
لاہور، 9 دسمبر — محکمہ داخلہ پنجاب میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کی۔ اجلاس میں سکولز اور کالجز کی سکیورٹی صورتحال، آڈٹ رپورٹس اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کو بتایا کہ صوبہ بھر میں “سکول سیفٹی مہم” کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے جبکہ تمام تعلیمی اداروں کا سکیورٹی آڈٹ بھی جاری ہے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو باؤنڈری والز، تربیت یافتہ گارڈز، سیفٹی آلات اور دیگر ایس او پیز پر فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں میں پینک بٹن کی تنصیب ہر صورت یقینی بنائی جائے گی تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانس ممکن ہو۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں کی میپنگ مکمل ہو چکی ہے اور ہر ادارے کیلئے ایمرجنسی نمبرز اور فوکل پرسنز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات کے مطابق سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں موک ایکسرسائزز کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکولز کی سکیورٹی مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات تیز کئے جائیں۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری صحت نبیلہ عرفان، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، محکمہ صنعت، انٹرنل سکیورٹی، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
Comments are closed.