پندرہ ستمبر سے بلوچستان کے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھول دئےے جائیں گے : سردار یار محمد رند
کوئٹہ : صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو غیر حاضر اساتذہ اور عملے کو 3دن میں ٹربیونل سے سزا دلوا کر گھر بھجوا دیتا ، میری نظر میں ٹرانسفر یا معطل کرنا اہمیت نہیں رکھتا ، بلوچستان کے 2اضلاع پشین اور کچی کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ مشہور ہےں ،پندرہ ستمبر سے بلوچستان کے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھول دئےے جائیں گے ، پرائیویٹ سکول اگر چھپ کر بچوں کو پڑھارہے ہیں اس کی نشاندہی کی جائے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میںجمعرات کو پہلی آل بلوچستان ڈویژنل ڈائریکٹرز ، ڈی اوز کانفرنس کے دوران اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری تعلیم شیر خان بازئی ، ڈائریکٹر اختر کھیتران ، ایڈیشنل ڈائریکٹر طفیل احمد و دیگر بھی موجود تھے ۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ کورونا کا اعلان کیا گیا تو مجبوراً سکولز ، کالجز بند کرنا پڑے تاہم ضروری عملے کو بلالیا گیا تھا ۔ اساتذہ کرام کا بڑا رتبہ اور کردار ہے انہیں اس پیشے کی تقدس کو برقرا رکھنا چاہےے ۔ دنیا میں استاد کا احترام کے ساتھ نام لیا جاتا ہے جو لوگ اپنے باپ کی عزت کرتے ہیں وہ استاد کے بھی عزت کرتے ہیں ، باپ بچوں کا رول ماڈل ہوتا ہے لےکن بعض اساتذہ کا رول دیکھ کر سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانی چاہیے ، بچیوں کی تعلیم کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ۔ ہم لوگوںنے عوام کے پیٹ کاٹ کر سکول بنائے لےکن ان میںاصل رو تعلیم نہیںہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشین اور کچی میں 60سے 70سکول بند پڑے ہوئے ہیں، کرپشن ، چوری سب سے زیادہ انہی 2اضلاع کے سکولوں میں ہوتی ہے ۔ میں نے شوران میں سکول بنایاہے دوچار سال کے بعد میں ریٹائر ہو کر علاقے کے لوگوں کو بچوں کو بہتر تعلیم کی طرف راغب کروں گا ۔ انہوں نے کہاکہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ اساتذہ سکولوں میں ڈیوٹیاں نہیںدیتے ۔ مکران ڈویژن کے ایک جھگی نما سکول میں صرف ایک ٹیچر ہے جو 30سے 35بچوں کو مسلسل تعلیم دے رہا ہے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سزا و جزا کا نظام ہونا چاہےے میرے پاس اختیار ہوتا تو میں ٹربیونل کے ذریعے 3روز میںغیر حاضر عملے کو سزا دلوا کر گھر بھجوادیتا کیونکہ ٹرانسفر اور معطلی میری نظر میںاہمیت نہیںرکھتی ۔ ملازم معطل ہونے کے بعد گھر بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں۔ 92ہزار اساتذہ اور عملہ میں نصف بھی اگر درست ہوجائے تو اسے بڑی کامیاب تصور کیا جائے گا ۔انہوںکہا کہ بہتر کارکردگی دکھانے والے کے لئے تعریفی اسناد کے ساتھ ہی رقم دینا چاہےے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے کے تمام اضلاع کے 14ہزار سکولوں کو چیک کریں گے ۔ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ 15ستمبر سے 9ویں سے اوپر کے کلاسز شروع کی جائیں گی جس کے ایک ہفتے بعد مڈل اور پھر ایک ہفتے پرائمری سکول کھول دیئے جائیں گے جہاں ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا کوشش ہوگی کہ سکولوں کے سرپرائز وزٹ کروں اگر خود نہ کرسکا تو سیکرٹری ذمہ داری لگاﺅں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی ملازم، استاد یا آفیسر کو کوئی مسئلہ ہو تو ڈائریکٹ میرے پاس آئے مگر غلط سفارش لے کر اگر کوئی میرے پاس آیا تو اس کاکام خراب کردوں گا ۔