
کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سبزل روڈ کی ابتر صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر علاقے کی صورتحال کو بہترکیا جائے، دو دن بعد پھر دورہ کروں گا، حکام خود کو عوام کے خادم سمجھیں، مغربی بائی پاس کی تعمیر کے آغاز میں این ایچ اے کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے جس کی وزیراعظم سے شکایت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سبزل روڈ، مشرقی بائی پاس، ہزارہ ٹاؤن کلی کرانی و دیگر کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے عوامی شکایات پر سبزل روڈ کا دورہ کیا اور بغیر پروٹوکول و سیکیورٹی کے سبزل روڈ پہنچ گئے۔انہوں نے سڑک کی تعمیر میں تاخیر سے علاقے میں پیدا ہونے والی ناگفتہ بیہ صورتحال کا جائزہ لیااور علاقہ مکینوں سے ملاقات کی۔علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ کو تعمیراتی کام میں تاخیر اور نکاسی آب کے نظام کی ابتری سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے اور بتایا کہ گزشتہ تین سال سے کوئیہ پیکج کے نام پر روڈ کو کھود کے چھوڑ دیا گیا ہے، گزشتہ حکومت نے کریڈٹ تو لیا لیکن زمین پر کام نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سبزل روڈ کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کرت ہوئے کہا ہے کہ سب کچھ اچھا ہے کی رپورٹس پر اعتماد نہیں، صورتحال کا خود جائزہ لینے آیا ہوں، علاقے کی صورتحال کے ذمہ دار حکام کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ میٹرپولیٹن کارپوریشن کو صورتحال کو فوری بہتر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ روڈ کی تعمیر کے کام کا فوری آغاز کیا جائے، دو دن بعد دوبارہ علاقے کا دورہ کروں گا۔ انہوں نے کہاکہ حکام کی نالائقی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، حکام خود کو عوام کا خادم سمجھیں۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہزارہ ٹاؤن کلی کیرانی اور مغربی بائی پاس کا بھی دورہ کیا، انہوں نے مغربی بائی پاس کی تعمیر میں تاخیر کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے روڈ کی تعمیر کے آغاز میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہاہے اور وہ این ایچ اے کے رویہ پر وزیراعظم کو شکایت کرینگے،اس موقع پر صوبائی وزیر سید احسان شاہ بھی وزیراعلء کے ہمراہ تھے۔




