قومی اسمبلی نے’’ زینب الرٹ بل ‘‘متفقہ طور پر منظور کرلیا

0 30

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے پیش کیا گیا ’زینب الرٹ بل ‘ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ جمعہ کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل2019ء زیر غور لایا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ گمشدہ اور اغواء شدہ بچوں کے لئے الرٹ کو بڑھانے‘ جوابی ردعمل اور بازیابی کے لئے احکامات وضع کرنے کا بل‘ زینب الرٹ‘ جوابی ردعمل اور بازیابی بل 2019ء منظور کیا جائے جس پر قومی اسمبلی نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وفاقی وزیر اسد عمر اور پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کا اس بل کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے بل کی منظوری پر پورے ایوان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل اب کافی بہتر شکل میں آگیا ہے۔ زینب کی دوسری برسی کے موقع پر یہ بل منظور ہوا ہے۔ ہر صوبہ کو اس بل کی تقلید میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ بل کی شق کے مطا بق گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، 1099ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جس پر بچے کی گمشدگی، اغواء اور زیادتی کی اطلاع فوری طور پر ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، ہوائی و ریلوے اڈوں، مواصلاتی کمپنیوں کے ذریعے دی جائے گی۔قانون کے مطابق جو سرکاری افسر دو گھنٹے کے اندر بچے کے خلاف جرائم پر ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی، 18 سال سے کم عمر بچوں کااغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے، گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لئے زینب الرٹ جوابی ردعمل و بازیابی ایجنسی قائم کی جائے گی۔اس بل کے تحت ون ونڈو آپریشن کے تحت ریسکیو اور ریکوری ہوگی۔ دو گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج ہوگی اور تین ماہ کے اندر اندر اس قسم کے واقعات کو نمٹانے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ زینب الرٹ بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے بچے کے اغواء ‘ اسے بھگا کر لے جانے‘ اس کے قتل یا زخمی کرنے یا اس سے زنا بالجبر یا نفسانی خواہشات پوری کرنے کے ذمہ دار کو سزائے موت یا عمر قید اور ایک کروڑ روپے سے دو کروڑ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جائے گی جبکہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو ذاتی ، غیر منقولہ جائیداد پر بدنیتی سے قبضہ کرنے کے ارادے سے اغواء کرنے پر بھی عمر قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل کی منظوری کے لیے اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ووٹنگ کرائی تھی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ زینب الرٹ بل پارلیمان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے،زینب الرٹ بل میں نے پچھلی اسمبلی میں پیش کیا تھا لیکن اس اسمبلی کی مدت میں پاس نہ ہو سکا ، آج پارلیمان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ انہوں نے کہاکہ امید ہے سینیٹ بھی اس قانون کو جلد منظور کرے گی۔ اس ملک کے معصوم بچوں کی حفاظت پارلیمان اور حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.