بلوچستان میں عوام پاکستان پارٹی کی جڑیں مضبوط ۔۔۔.جنرل سیکریٹری پروفیسر حلیم صادق کا تاریخی خطاب
بلوچستان میں عوام پاکستان پارٹی کی جڑیں مضبوط ۔۔۔.جنرل سیکریٹری پروفیسر حلیم صادق کا تاریخی خطاب
شاھد خاقان عباسی کا دورہ کوئٹہ ، کنوینئر امان شاہ، جنرل سیکریٹری پروفیسر حلیم صادق کا تاریخی خطاب
خصوصی رپورٹ ۔۔۔۔۔۔
قیوم بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔کہ شاھد خاقان عباسی کی زیر سرپرستی قائم ھونے والی جماعت ” عوام پاکستان پارٹی” غیر معمولی طور پر صوبے میں زبردست پزیرائی حاصل کررہی ہے۔ اور بلاشبہ اس کی وجہ صوبے کے دو معروف شخصیات ،سیاستدان، قبائلی شخصیات ” سید امان شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی ہیں۔ جن میں سے سید امان شاہ پارٹی کے صوبائی کنوینئر اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی صوبائی جنرل سیکرٹری بن چکے ہیں۔ عوام پاکستان پارٹی اس وقت ایک نئے عزم، وژن اور عوامی رابطے کی مہم کے ساتھ صوبائی سطح پر جس قیادت کے تحت فعال ہے، وہ نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ نئی سیاسی نسل کے لیے ایک روشن مثال بھی ہے۔ پارٹی کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ اور صوبائی جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی دو ایسے رہنما ہیں جنہوں نے مختصر وقت میں اپنی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیتوں اور عوامی ہمدردی کے ذریعے عوام پاکستان پارٹی کو ایک متحرک اور مربوط سیاسی قوت میں ڈھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ سید امان شاہ ایک زیرک، دور اندیش اور مخلص سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی۔ بطور صوبائی کنوینئر، انہوں نے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو صوبہ بھر میں منظم، مربوط اور فعال بنانے میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کی قیادت میں پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، خاص طور پر نوجوان طبقہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر پارٹی کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف حکم نہیں دیتے بلکہ عملی طور پر میدان میں موجود رہتے ہیں۔ عوامی رابطہ مہم، فلاحی سرگرمیاں، مقامی سطح پر مسئلہ حل کمیٹیاں تشکیل دینا، اور پارٹی کارکنان کی تربیت جیسے اہم اقدامات ان کی قیادت میں عمل میں آئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنایا ہے۔جبکہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی علم، تدبر اور خدمت کا امتزاج ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی کا شمار ملک کے اُن افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے علمی میدان کے ساتھ ساتھ عملی سیاست میں بھی مثال قائم کی ہے۔ بحیثیت صوبائی جنرل سیکریٹری، انہوں نے پارٹی کی فکری سمت کو واضح کیا اور اس کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تعلیمی قابلیت، فہم و فراست اور اخلاقی وقار نے پارٹی کی ساکھ کو بلند کیا ہے۔ انہوں نے صوبے کے دور دراز علاقوں میں تعلیمی آگہی مہم، صحت سے متعلق سیمینارز اور نوجوانوں کے لیے رہنمائی پروگراموں کا انعقاد کر کے پارٹی کو عوام کے قریب تر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر سمالزئی کا ماننا ہے کہ پارٹی کو صرف انتخابات کی تیاری کے لیے نہیں، بلکہ مسلسل عوامی خدمت اور شعور بیداری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت ایک فعال اور فکری قیادت کی حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔ سید امان شاہ اور ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی کی قیادت میں عوام پاکستان پارٹی ایک مثالی اور اصولی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ ان کی مشترکہ کوششیں تنظیمی استحکام، نظریاتی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دے رہی ہیں۔ پارٹی ان دونوں عظیم رہنماؤں کی خدمات کا تہہ دل سے اعتراف کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی پارٹی کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان میں ایک مثبت، ترقی پسند اور عوام دوست سیاسی ماحول کو پروان چڑھاتے رہیں گے۔ بلوچستان میں پارٹی کو مذید فعال بنانے اور سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے کوئٹہ میں صوبائی آفس کا افتتاح شاھد خاقان عباسی کے زریعے کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔واضع رہے ۔کہ قریبا تین ماہ قبل ہی پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق نے آفس قائم کردیا تھا۔ جہاں زبردست سیاسی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ بہرحال یکم مئی کو شاھد خاقان عباسی اپنے وفد کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے ،ائیر پورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اور انھیں بڑے جلوس میں سرینا ھوٹل پہنچایا گیا۔جہاں تقریب منعقد ھوئی۔ جس سے شاید خاقان عباسی ، ڈاکٹر اظہر اسلم ، سید امان شاہ ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق اور دیگر نے خطاب کیا۔ صوبائی دفتر کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔ صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے کہا۔کہ آج کا دن عوام پاکستان پارٹی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم جس دفتر کا افتتاح کر رہے ہیں، وہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں، بلکہ ہمارے خوابوں، نظریات اور عوامی خدمت کے عہد کا مظہر ہے۔ میں سب سے پہلے اپنے محترم مہمانِ خصوصی، سابق وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی آج یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سیاست میں اصولی قیادت، بردباری اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ عوام پاکستان پارٹی نے ابتدا ہی سے نظریاتی سیاست، سچائی، شفافیت اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے۔ ہم اقتدار کی سیاست نہیں کرتے، ہم اقدار کی سیاست کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد کرسی نہیں، قوم کی خدمت ہے۔ اس دفتر سے وہ آواز اٹھے گی جو کمزور کو طاقتور کے برابر لا کر کھڑا کرے گی، جو تعلیم سے جہالت کو، انصاف سے ظلم کو، اور اتحاد سے نفرت کو شکست دے گی۔ ہم نے اپنے کارکنان کو محض نعرہ باز نہیں بلکہ سماجی کارکن بنایا ہے۔ ہم نے انہیں تربیت دی ہے کہ وہ اپنے محلے، اپنے گاؤں اور اپنے شہر کے مسائل کا ادراک رکھیں اور پارٹی کو صرف ووٹ لینے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا پلیٹ فارم بنائیں۔ میں یہ بات پورے یقین سے کہتا ہوں کہ جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی جیسے علمی و فکری شخص کی موجودگی ہماری قیادت کو فکری بلندی عطا کر رہی ہے۔ ان کا ساتھ ہمارے لیے افتخار ہے۔ہم ان شاء اللہ دن رات محنت کریں گے، میدان عمل میں نکلیں گے، اور ہر پاکستانی کو یہ یقین دلائیں گے کہ عوام پاکستان پارٹی وہ جماعت ہے جو صرف دعوے نہیں، عمل کرتی ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپنے تمام کارکنان، تنظیمی ٹیم، میڈیا کے دوستوں، اور خاص طور پر ہمارے معزز مہمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں سچ کے ساتھ کھڑا رہنے، اور حق کے لیے آواز بلند کرنے کی توفیق دے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔صوبائی جنرل سیکریٹری، عوام پاکستان پارٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی نے کہا۔کہ آج کی یہ تقریب صرف ایک دفتر کی افتتاحی تقریب نہیں، بلکہ ایک تحریک کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ دن اس عزم کی تجدید ہے کہ ہم عوام کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں، اور سیاست کو ذمہ داری۔ میں جناب شاہد خاقان عباسی صاحب کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور ہماری پارٹی کے وقار میں اضافہ فرمایا۔ ان کا سیاسی تجربہ، ان کی سادگی اور دیانت داری ہم جیسے کارکنوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ میں ایک استاد بھی ہوں اور ایک سیاسی کارکن بھی۔ میں نے اپنی پوری زندگی علم، شعور اور اصولوں کی ترویج میں گزاری ہے۔ عوام پاکستان پارٹی اسی نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسی سیاست، جو عوامی ہو، خدمت گزار ہو، اور اداروں کی مضبوطی کا ضامن ہو۔ یہ دفتر اب صرف فائلوں کا مرکز نہیں ہوگا، بلکہ یہ مرکز ہوگا۔عوامی شکایات کے اندراج اور فوری حل کا،نوجوانوں کی رہنمائی اور تربیت کا،خواتین کی آواز کو اہمیت دینے کا، اور معاشرے کے ہر محروم طبقے کو طاقتور بنانے کا۔ ہماری سیاست لسانی نہیں، قومی ہے۔ ہم فرقہ واریت نہیں، وحدت کا پرچار کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد اقتدار نہیں، اقدار کا تحفظ ہے۔میں سید امان شاہ صاحب کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی قیادت میں یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ ان کا اخلاص، ان کی ثابت قدمی اور ٹیم ورک نے اس دن کو ممکن بنایا۔ آخر میں، میں اس یقین کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ عوام پاکستان پارٹی ایک نئی سیاسی سوچ، ایک صاف اور ایماندار نظام کی نمائندہ جماعت بن کر ابھرے گی۔ ہم عوام کے دلوں میں جگہ بنائیں گے، نہ کہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں۔ اللہ ہمیں اخلاص، استقامت اور سچائی عطا فرمائے۔ سابق وزیر اعظم، عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے دورہ کوئٹہ کے موقع پر بلوچستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی صورت حال پر مختلف سیاسی رہنماؤں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما خوشحال خان کاکڑ معروف سماجی و سیاسی رہنما نصراللہ زیرے، تنظیم نسل نو ہزارہ مغل، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندگان، کوئٹہ چیمبر آف کامرس، تاجر برادری، وکلاء اور طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ بلخصوص سنئیر سیاستدان نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی سے ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس انتہائی اہم تھی۔ شاہد خاقان عباسی نے عوامی مسائل کو قریب سے جاننے کی کوشش کی اور مختلف وفود سے ملاقاتوں کے ذریعے زمینی حقائق کا جائزہ لیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ پریس کلب کا خصوصی دورہ کیا جہاں اُن کے اعزاز میں “میٹ دی پریس” کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں بلوچستان کے صحافیوں، قلم کاروں، اور سینئر رپورٹرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شاھد خاقان عباسی نے ملکی اور علاقائی صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی بقا اور ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کے جائز حقوق کی فراہمی کے بغیر قومی یکجہتی کا خواب ادھورا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور سیاسی شراکت داری کو بلوچستان کی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔اس موقع پر صحافیوں نے مختلف سوالات کیے جن میں سیاسی جوڑ توڑ، مہنگائی، معاشی بحران، علاقائی سیکیورٹی اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے التواء جیسے امور شامل تھے۔ شاہد خاقان عباسی نے صراحت سے ہر سوال کا جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک سیاست کو ذاتی مفادات سے نکال کر عوامی خدمت کے لیے وقف نہیں کیا جاتا، تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی جہاں بلوچستان کے کاروباری طبقے کو درپیش مسائل زیر بحث آئے۔ بجلی اور گیس کی قلت، تجارتی پابندیاں، اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں پر کاروباری برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عباسی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی آواز اسلام آباد تک پہنچائی جائے گی اور وہ اس پر پارلیمانی سطح پر بات کریں گے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے خوشحال خان نے اس ملاقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی قیادت کا بلوچستان آ کر مسائل کو سننا ایک مثبت اشارہ ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ان کے علاقے کے عوام عدم تحفظ اور معاشی پسماندگی کا شکار ہیں، جن کا حل صرف قومی یکجہتی میں مضمر ہے۔ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے نمائندے نے نوجوانوں کے لیے تعلیم و روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی حالت زار بہتر بنائی جائے۔شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کی صورتحال، پاک ایران تعلقات، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے معاملات پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سی پیک کا مرکزی حصہ ہے، اور اگر یہاں امن و استحکام قائم نہ ہوا تو قومی منصوبے متاثر ہوں گے۔ انھوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے میڈیا اور سیاسی قیادت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ملاقاتیں اور پریس کانفرنس اس بات کا غماز ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کو اب مرکزی سطح پر سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔ مختلف طبقہ ہائے فکر کی شرکت اس امر کی علامت ہے کہ ایک متفقہ قومی بیانیے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اب یہ سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ ان ملاقاتوں اور تجاویز کو عملی جامہ پہنائیں۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے، اور اس کے لیے سنجیدہ، مربوط اور دیرپا حکمت عملی کی ضرورت ہے۔