بلوچستان میں مالیاتی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن — پرانا نظام ختم، 20 کروڑ روپے سالانہ بچت متوقع
کوئٹہ، 09 اکتوبر:
بلوچستان میں مالیاتی امور کی انجام دہی کے پرانے نظام کو ختم کرتے ہوئے ادائیگیوں اور ریکارڈ کے پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت محکمہ خزانہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ عمران زرکون نے اصلاحاتی اقدامات اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریژری کو تحلیل کردیا گیا ہے اور اس کے ڈھائی سو سے زائد ملازمین کو ایس اینڈ جی اے ڈی میں منتقل کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں اضافی اسٹاف کے خاتمے کے بعد محکمانہ اصلاحات کا دائرہ کار محکمہ خزانہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریژری کے روزمرہ امور کی تنظیمِ نو سے سالانہ 20 کروڑ روپے کی بچت ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا:
> “عوام کے ٹیکسوں کا ایک ایک روپیہ عوام کی امانت ہے۔ مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نظم و نسق کو فروغ ملے گا۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مالیاتی ادائیگیوں کی آن لائن منتقلی بدعنوانی کے خاتمے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے، جس سے سرکاری ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر اور مداخلت کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں مالیاتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، تاکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے سیکرٹری خزانہ عمران زرکون کی کاوشوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
Comments are closed.