اہم خبریںبلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومتیں چلانا آسان نہیں ہوتا ہم نے تباہ حال صوبے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا ہم ماضی کے جس نظام سے نکلے ہیں وہ سب کے سامنے ہے

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومتیں چلانا آسان نہیں ہوتا ہم نے تباہ حال صوبے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا ہم ماضی کے جس نظام سے نکلے ہیں وہ سب کے سامنے ہے. سابقہ ادوار میں وزیراعلیٰ اور چند خاص وزراء کے حلقوں میں فنڈ جاتے تھے جس کی وجہ سے دیگر اضلاع نظر انداز ہوجاتے تھے اور وزراء اور اراکین اسمبلی بھی ایجنٹوں کے ذریعہ اپنے کام نکلوانے اور ترقیاتی منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے پر مجبور تھے جبکہ آج اپوزیشن بھی نہیں کہہ سکتی کہ انہوں نے پی این ڈی، فائنانس یا کسی بھی محکمے میں پیسے دے کر کام نکلوایا ہے. حکومتوں کا طریقہ کار یہ نہیں ہوتا کہ ہر مرحلہ پر پیسہ اور سفارش چلے، کچھ لوگ شاید اسی لئے فکرمند ہیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے ایسے کام بند ہوگئے ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواں کلی بائی پاس کی تعمیر نو کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ،سینیٹر منظور احمد خان کاکڑ، صوبائی وزراء زمرک خان اچکزئی، مٹھا خان کاکڑ، محمد خان طوراتمان خیل، صوبائی مشیر ملک نعیم بازئی، میرمحمد خان لہڑی، پارلیمانی سیکریٹری میر سکندر عمرانی، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی اور علاقے کے قبائلی، سیاسی اور سماجی عمائدین کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی. وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی فرد اگر چھوٹا سا کاروبار شروع کرتا ہے تو اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتا ہے تو پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ملک کے 44 فیصد رقبہ اور 120 کروڑ آبادی کے صوبے کو بغیر منصوبہ بندی کے چلایا جاسکے. ملک میں سب سے بڑا فقدان حکومت چلانے کا ہے صرف تصویریں کھچوانے اور چند ادھورے منصوبوں کے فیتے کاٹنے سے حکومتیں نہیں چلتیں، فیتہ کاٹاہے تو پھر یہ نہیں کہ گھر بیٹھ جائیں لوگ سوال کریں گے کہ بورڈ لگا ہے تو منصوبہ کہاں ہے اگر ہم بھی ایسے ہی وسائل اور وقت ضائع کریں گے تو یہ صوبہ کبھی ترقی نہیں کرسکے گا. وزیراعلیٰ نے کہا کہ علاقے کے لوگ حکومتوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گی، انہیں سڑک، ہسپتال، روزگار، تعلیم، اچھا ماحول، امن، جان ومال کا تحفظ اور قدرتی آفات میں حکومت کا فوری رسپانس ملے گا، ہر شخص جب ووٹ ڈالتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ سب کچھ ہوتا ہے. بدقسمتی سے کارکردگی کی بجائے کبھی زبان، کبھی مذہب اور کبھی علاقے کی بنیاد پر ووٹ لینے کا رحجان رہا، یہی وجہ ہے کہ حکومتیں کارکردگی نہ دکھاسکیں. وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کسی پر تنقید نہیں کریں گے ہوسکتا ہے کہ ان کی نیتیں بھی کام کرنے کی ہوں تاہم ان کا طریقہ کار ایسا نہیں تھا جس سے ترقی ہوسکتی. وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صرف لسبیلہ کے نہیں بلکہ پورے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، تنقید کرنے والے ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ ہم نے ہر یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کو یکساں بنیادوں پر فنڈز دیئے اور ان حلقوں میں بھی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جہاں سے اپوزیشن کے لوگ منتخب ہوئے ہیں کیونکہ وہاں کے عوام بھی پاکستانی اور بلوچستانی ہیں اور صوبائی وسائل پر پورا حق رکھتے ہیں، ہم ماضی کے ادھورے 600 منصوبوں کو بھی مکمل کررہے ہیں، اگرچہ یہ حکومت کی صوابدید تھی کہ وہ ان منصوبوں کو چھوڑ کر اپنے منصوبے شروع کرتی اگر ہماری سوچ مثبت اور نیت صاف نہ ہوتی تو یہ منصوبے کبھی مکمل نہ ہوسکتے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ہر یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کو اٹھانا ہے، یہ ہماری ذمہ دار ی ہے کیونکہ ہم حکومت کا حصہ ہیں اور عوام کے سوالوں کا جواب دینے کے پابند ہیں، انہوں نے کہا کہ الحمدللہ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مخلوط حکومت کے جماعتوں کا ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن کو بھی کہیں شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ لسبیلہ میں دوسرے ضلعوں کی نسبت زیادہ فنڈز گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کا کام عوامی مسائل حل کرنا ہوتا ہے، ہمارے دور حکومت نے نہ تو اداروں اور نہ ہی افسروں پر کسی قسم کا غیر قانونی دباؤ ہے بلکہ ان پر اس بات کا دباؤ ضرور ہے کہ وہ قواعدوضوابط کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کریں اس دور حکومت میں کسی کے بھی ہاتھ اتنے لمبے نہیں کہ وہ حکومتی معاملات میں مداخلت کرسکے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے کسی کی ذاتی میراث نہیں ہوتے بلکہ یہ عوام کے پیسوں سے انہی کے لئے بنائے جاتے ہیں، ہم نے ہر علاقے کی صورتحال اور ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بندی کی ہے جس سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوسکے گا، نظام کو بدلنا ضروری ہے کیونکہ نظام بدلنے سے آسانی آتی ہے، ہم کام نہ کرنے کی روش کو تبدیل کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ حکومت طویل دورانیے کے اجلاس منعقد کرتی ہے لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ حکومتی امور کی صحیح ادائیگی کے لئے ان کا بغور جائزہ لینے اور صحیح فیصلے کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے، یہ انہیں اجلاسوں کو نتیجہ ہے جن کے ذریعہ صوبے کو ایک نئی سمت ملی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانچ سال پورے کرنے والی حکومتوں نے اپنی پوری مدت کے دوران کابینہ کے 30 سے 35 اجلاس منعقد کئے ہوں گے جبکہ ہماری حکومت نے سترہ ماہ کے دوران کابینہ کے بیس اجلاس منعقدکئے جن کا دورانیہ بارہ بارہ گھنٹے رہا جس کا کریڈٹ حکومتی جماعتوں اور بیورو کریسی کو بھی جاتا ہے، حکومتیں ہر چیز کو دیکھتی ہیں اگر دو چار چیزیں لے کر بیٹھ جائیں گے تو صوبہ بھی بیٹھ جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ سترہ ماہ کے دوران چیزوں کو صحیح کرنے میں بڑی محنت کی ہے جس کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں، گذشتہ سترہ ماہ کے کامیاب اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ صوبے کا چہرہ ہے، اس کی بہتری اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، نواں کلی، سبزل روڈ، جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ، مشرقی اور مغربی بائی پاس کو منسلک کرنے کے لئے چار لنک روڈ کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے، ہنہ روڈ کو بھی دورویہ کیا جائے گا. وفاقی حکومت کے تعاون سے مشرقی بائی پاس کی توسیع کا منصوبہ زیر تکمیل ہے، نواں کلی سے ایئرپورٹ تک لنک روڈ بنایا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں کینسر ہسپتال، نواں کلی ہسپتال اور ڈینٹل کالج قائم کیا جارہا ہے، صوبے کی یونیورسٹیوں کی گرانٹ کو بڑھا کر ایک سوپچاس کروڑ کیا گیا اور آئندہ مالی سال میں اسے دوسوپچاس کروڑ تک بڑھایا جائے گا، بولان میڈیکل یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، ہر ضلع کے لئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی پالیسی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے. ادویات کی خریداری کی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اس کا اختیار ضلع کے ہسپتالوں کو دے دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو ہم اپنے پانچ سال پورے کریں گے اور جاری منصوبوں کو مکمل کریں گے، ہم ایک مثالی طرز حکومت کے ذریعہ آنے والی حکومتوں کے لئے ایک معیار مقرر کرکے جائیں گے. تقریب سے سینیٹر منظور احمد کاکڑ، صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی، صوبائی مشیر ملک نعیم خان بازئی اور رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی نے بھی خطاب کیا، مقررین نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی قیادت میں کام کرنا ان کے لئے باعث فخر ہے اور صوبے کے ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے وژن کا نتیجہ ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے تختی کی نقاب کشائی کرکے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا. اس موقع پر سیکریٹری مواصلات نورالامین مینگل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا تخمینہ لاگت 346.704 ملین روپے ہے، دورویہ بائی پاس کی کل لمبائی 6.9 کلومیٹر اور شولڈرز کے ساتھ چوڑائی 72 فٹ ہوگی جسے اس سال 30 جون تک مکمل کرلیا جائے گا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button