آزاد کشمیر کے دیگر ترقیاتی اور اصلاحاتی اقدامات
معاہدے میں مزید اہم نکات شامل ہیں: مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈ قائم ہوں گے، تمام بورڈز کو وفاقی بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔ منگلا ڈیم کے توسیعی منصوبے میں میرپور کے متاثرہ خاندانوں کو 30 دن میں زمین کا قبضہ دیا جائے گا۔ آزاد کشمیر حکومت 15 دن میں ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈز جاری کرے گی اور ہر ضلع میں مرحلہ وار MRI اور CT اسکین مشینیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت پاکستان آزاد کشمیر کے بجلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے دے گی، جبکہ کابینہ اور سیکرٹریز کی تعداد محدود رکھی جائے گی۔
مزید برآں، کہوری/کمسیر اور چھپلانی نیلم روڈ پر دو سرنگوں کی فزیبلٹی حکومت پاکستان تیار کرے گی۔ میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ٹائم فریم رواں مالی سال میں طے کیا جائے گا، جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس تین ماہ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے برابر کیا جائے گا۔ 2019 کے ہائی کورٹ فیصلے کے مطابق ہائیڈل منصوبوں پر عملدرآمد ہوگا اور 10 اضلاع میں بڑے واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی رواں سال مکمل ہوگی۔
Comments are closed.