وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت پولیس و سول افسران کا مشترکہ دربار

24

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

پشاور — وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پولیس فورس اور سول افسران کا مشترکہ دربار منعقد ہوا جس میں صوبائی سیکیورٹی صورتحال، امن و امان اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کے نشانے پر ہے، مگر خیبر پختونخوا پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 برس تک پامردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے پولیس اور سول افسران کی قربانیوں کو پوری قوم کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوانمردی اور حوصلہ مندی سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والا ہر اہلکار قابلِ تحسین ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اللہ کی رضا اور عوام کے مفاد کے لیے لڑیں گے تو کامیابی ہماری ہوگی، اور صوبے میں ہر صورت امن بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بند کمروں کے فیصلے مزید قبول نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی کسی قسم کی سیاسی مداخلت برداشت کی جائے گی—تاہم افسران کو نتائج دینا ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون نظام اور جدید ترین ٹیکنالوجی ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جارہی ہے۔ وسائل کی کمی کو سیکیورٹی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ شہید سول سرونٹس کے اہل خانہ کے لیے خصوصی پالیسی بھی تشکیل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا اور عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی جاری رہے گی۔ سرکاری افسران کی کارکردگی کو واضح پرفارمنس انڈیکیٹرز کے ذریعے جانچا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ایمان، حوصلے اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔

دربار میں چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل و ڈسٹرکٹ انتظامیہ، پولیس افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی، جبکہ شہداء کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

Comments are closed.