افغانستان کے شمالی علاقوں میں تباہ کن زلزلہ، 20 جاں بحق، 320 سے زائد زخمی

18

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

کابل، 3 نومبر 2025ء:
افغانستان کے شمالی صوبوں میں اتوار کو آنے والے 6.3 شدت کے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 320 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ بلخ کے شہر خُلم کے قریب 28 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ جھٹکے سمنگان، قندوز، تخار اور مزار شریف سمیت متعدد شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

مقامی حکام کے مطابق درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ کئی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ مزار شریف کی تاریخی “بلو مسجد” (روضۂ حضرت علیؓ) کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ریسکیو اور امدادی ادارے تاحال متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دشوار گزار راستوں اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث امداد پہنچانے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ افغانستان کی وزارتِ قدرتی آفات کے ترجمان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی دور دراز دیہات سے معلومات تاحال موصول نہیں ہو سکیں۔

عالمی امدادی ادارے، بشمول ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی امور (OCHA)، نے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا، عارضی پناہ گاہیں قائم کرنا، اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک و صاف پانی فراہم کرنا ہے۔

زلزلے کے بعد کئی افٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کے عالم میں رات کھلے میدانوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

ماہرینِ ارضیات کے مطابق افغانستان ہندوکش کی زلزلہ خیز پٹی میں واقع ہے، جہاں ہر سال درجنوں درمیانے اور شدید زلزلے آتے ہیں۔

Comments are closed.