آرمی ایکٹ میں ترامیم ،پارلیمانی طریقہ اپنایا جائے گا تو حمایت کریں گے، بلاول بھٹو کااعلان

0 30

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کے لیے پارلیمانی طریقہ اپنایا جائے گا تو حمایت کریں گے،مسلم لیگ (ن )نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حوالے سے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا،میرے قومی اسمبلی میں صرف 50 ووٹ ہیں اور مسلم لیگ (ن )کی غیرمشروط حمایت کے بعد میں اثرانداز نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ کی جانب سے توسیع کے معاملے کو پارلیمان بھیجا جانا پارلیمان کی کامیابی ہے،پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے سے صرف پارلیمان نہیں، فوج کے ادارے کو بھی نقصان ہوگا،نیب ایک متنازع اور آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے، یہ ایک کالا قانون ہے، جسے ختم کرنا چاہیے۔جمعہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا ہے، مسلم لیگ (ن )نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حوالے سے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا، میرے قومی اسمبلی میں صرف 50 ووٹ ہیں اور مسلم لیگ ن کی غیرمشروط حمایت کے بعد میں اثرانداز نہیں ہوسکتا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ بل پر حکومت کی اپنی غیرمشروط حمایت پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوںنے کہاکہ قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن میں اتفاق رائے کو برقرار رکھے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے جنرل کیانی کے دور میں توسیع کا معاملہ کیا تھا، اب سپریم کورٹ نے توسیع کا معاملہ پارلیمان بھیج دیا ہے، جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔بلاول بھٹو نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توسیع کے معاملے کو پارلیمان بھیجا جانا پارلیمان کی کامیابی ہے۔انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے توسیع کے معاملے کو پارلیمان بھیجنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو پاس کرنا چاہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے سے نہ صرف پارلیمان بلکہ فوج کے ادارے کو بھی نقصان ہوگا۔انہوںنے کہاکہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے سے ہم وہی غلطیاں دہرارہے ہیں جو نوٹی فکیشن کے اجراء کے وقت ہوئی تھیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر قائد حزب اختلاف اور حکومت پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت چاہتے ہیں تو پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔ انہوںنے کہاکہ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پاسداری سے متعلق ہماری بات کو مانے گی۔ انہوںنے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ آرمی ایکٹ سے متعلق بل پر اتفاق رائے ہو، میں چاہتا ہوں کہ آرمی ایکٹ بل سے متعلق جمہوری و پارلیمانی اصولوں کی پابندی کی جائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک آسان معاملے کو حکومت زیادہ مشکل بنارہی ہے، آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل سے متعلق حکومت کا مؤقف کافی کنفیوژڈ رہا ہے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت نے عدالت میں فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست بھی دی ہے، حکومت یہ بل اچانک لائی اور پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی۔انہوںنے کہاکہ آرمی ایکٹ سے متعلق بل پارلیمان کے اراکین تک کو نہیں دیا گیا، حکومت اپوزیشن سے بات کرتی، یہ ایک آسان جنہوری عمل تھا۔ انہوںنے کہاکہ اگر حکومت شروع دن سے اپوزیشن سے بات کرتی تو اب تک یہ عمل مکمل ہوچکا، ابھی بھی کہوں گا کہ پارلیمان کی دفاعی کمیٹی میں بل کو بھیجا جائے، اس میں سب کا فائدہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اگر پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت چاہتی ہے تو انہیں پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ میں میاں نواز شریف کے خواجہ آصف کو پارلیمانی قواعد کی پاسداری سے متعلق لکھے گئے خط سے آگاہ نہیں۔انہوںنے کہاکہ میرے تو علم میں یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے غیرمشروط حمایت کا حکم دیا ہے، میں امید کرتا ہوں کہ اس بل کی منظوری کے تناظر میں اپوزیشن لیڈر جلد وطن واپس آئیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سابق صدر آصف زرداری کو کراچی کے اسپتال میں منتقل کیا ہے، صدر زرداری کے اسلام آباد میں جو میڈیکل ٹیسٹ ہوئے، ہم وہ دوبارہ کروارہے ہیں، صدر زرداری کی دل کی سرجری و دیگر مسائل سے متعلق غیرملکی ماہرین کو بھی ہم نے بلوایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ صدر زرداری کے علاج کے لئے بیرون ملک سے ایک ڈاکٹر آئے ہیں جو ان کی بیماری کا جائزہ لے رہے ہیں، نیب ایک متنازع اور آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے، یہ ایک کالا قانون ہے، جسے ختم کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ احتساب سے متعلق ہمیشہ اصلاحات کی جائیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے دور حکومت میں نیب کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت اپوزیشن نے ساتھ نہیں دیا، میاں نواز شریف کے دور میں بھی ہم نے بطور اپوزیشن نیب کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی مگر حکومت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔انہوںنے کہاکہ ہم نیب کا قانون ختم کرنے کے حوالے سے بدستور اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کوشش بھی کرتے آرہے ہیں، فاروق نائیک کا بل ایک سال سے زیرالتواء ہے، اس کی منظوری سے بہتری آئیگی مگر یہ کافی نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اگر واقعی کرپشن کو ختم کرنا ہے تو ہمیں ایک صحیح نظام بھی لانا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں احتساب کا ایسا نظام لانا ہوگا کہ جس کی بنیاد سیاسی انجینئرنگ یا سیاسی انتقام نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ اگر ہم احتساب کا ایسا جمہوری نظام لائیں جو سب کے لئے یکساں ہو تو اسی میں سب کا فائدہ ہے۔ ایک سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لکھے گئے خط کا مجھے کوئی علم نہیں، انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی جو ملاقات ہوئی تھی وہاں ان کی قیادت کی جانب سے ہی حکم آیا تھا کہ غیر مشروط حمایت ہوگی۔انہوںنے کہاکہ میں اس بات ہر زور دیتا ہوں ہم اہوزیشن میں ہوں یا حکومت میں اگر پارلیان کی عزت نہیں ہوگی تو کسی کی عزت نہیں رہے گی،حکومت کو یہ قدم پہلے لینا چاہیے تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.