’سپنسر‘: ہردلعزیز شہزادی ڈیانا کی پراسرار کہانی کی کشش آج بھی برقرار

0 29

پابلو لائرین کی تازہ ترین فلم ‘سپنسر‘ کا ایک ٹائٹل کارڈ اسے ‘ایک حقیقی سانحے سے ماخوذ کہانی‘ قرار دیتا ہے جو شاید اس کہانی میں آنے والے زبردست اتار چڑھاؤ کا پیش خیمہ ہے۔

یہ کہانی غالباً ویلز کی شہزادی لیڈی ڈیانا کی ہے، جن کا نام شادی سے قبل ڈیانا سپنسر تھا، مگر کسی بھی پیمانے کے تحت یہ ہالی وڈ میں عام طور پر کسی مشہور شخص کی زندگی پر بننے والی بائیو پکِ فلموں جیسی نہیں ہے۔

شہزادی ڈیانا کی زندگی پر آخری فلم سنہ 2013 میں اولیور ہعرشبیگل کی ‘ڈیانا‘ آئی تھی جس میں ان کی طلاق کے بعد دو سال کے عرصے پر توجہ مرکوز تھی۔ اس میں کیٹ سنل کی لکھی سوانح عمری ‘ڈیانا، ہر لاسٹ لو‘ (2001) کا استعمال کیا گیا تھا اور ان کی طلاق کے بعد ماہرِ امراض قلب ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ رومانوی رشتے پر روشنی ڈالی گئی۔

مگر ان دونوں فلموں میں اس سے زیادہ فرق نہیں ہو سکتا۔ جہاں ’ڈیانا‘ ایک ہی فارمولے کے تحت بننے والی تباہ کن فلاپ تھی، وہیں ’سپنسر‘ میں لائرین کی شاندار ہدایتکاری جھلکتی ہے۔

زیرِ موضوع خاتون کی طرح خود بھی یہ فلم بیک وقت مانوس بھی لگتی ہے اور پراسرار بھی۔ اس میں ایک شاندار، غیر قدرتی حقیقت پسندی کے ساتھ وہ لمحات دکھائے گئے ہیں جو سنہ 1991 میں ملکہ برطانیہ کے سانڈرنگھم ہاؤس میں کرسمس کی چھٹیوں پر شہزادی نے دیکھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کا شہزادہ چارلس سے رشتہ اپنے آخری لمحات میں تھا۔

اس دورے میں ان کے ہر قدم، وہ کیا کھائیں یا کیا پہنیں، ہر ہر چیز کو ایک منظم عسکری انداز میں پہلے سے طے کیا گیا۔ ایک یادگار منظر جو ان کی دنیا کی تنگی ظاہر کرتا ہے، اس میں ڈیانا شاہی خاندان کے دیگر اراکین کے ساتھ کھانا کھا رہی ہیں۔ اس میں سب لوگ ایک روبوٹ کی طرح ایک ہی انداز میں اپنا سوپ پی رہے ہیں۔

کیمرہ ڈیانا کی نظر سے ایک بظاہر سخت مزاج ملکہ کو دکھاتا ہے۔ اس کے ریورس شاٹ کی عکس بندی ڈیانا کے گرد تنگ ہوتی ہے اور ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم ان کے ذہن میں موجود ہیں۔ خوف کے مارے وہ گلے میں پہنا ہار اس سوپ میں گرا بیٹھتی ہیں، پھر اسی خوف میں وہ موتی نگل جاتی ہیں۔ یہ اس فلم میں موجود ڈیانا کی حقیقی اور نفسیاتی تنہائی کی تشبیہ تھی۔

چلی سے تعلق رکھنے والے ہدایتکار لائرین کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے تھے جس پر ان کی والدہ فخر محسوس کر سکیں۔ ان کی دیگر فلموں کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ذرا غیر روایتی انداز میں فلم بند کی گئی ہیں۔ تو پھر ڈیانا ہی کیوں؟

اس سوال کے جواب میں وہ بی بی سی کلچر کو بتاتے ہیں کہ ‘مجھے صحیح سے نہیں پتا۔ میں جب چلی میں بڑا ہو رہا تھا تو میں نے اپنی والدہ کہ ان میں دلچسپی لیتے دیکھا۔ اس وقت میں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اور پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ تو ڈیانا کے لاکھوں مداحوں میں سے ایک تھیں۔ جب 1997 میں ڈیانا کی وفات ہوئی تو مجھے لگا کہ پوری دنیا غم میں تھی۔‘

لائرین نے ڈیانا پر فلم بنانے کا فیصلہ امریکی صدر جان ایف کینڈی کی بیوہ جیکی کنیڈی پر 2016 میں فلم بنانے کے بعد کیا تھا۔ اس فلم کا نام بھی انھوں نے ’جیکی‘ رکھا تھا۔ اسی طرح انھیں ’سپنسر‘ بنانے سے پہلے کافی تحقیق کرنی پڑی، جس دوران انھوں نے ڈیانا کے بارے میں سینکڑوں آرٹیکل پڑھے، جس میں بی بی سی کا مواد بھی شامل تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میرے خیال میں ثقافتی اعتبار سے وہ جدید دور کی سب سے زیادہ معروف شخصیات میں سے ایک ہیں اور اس کے باوجود دنیا کی پراسرار ترین شخصیات میں سے بھی۔ یہ تضاد فلم اور آرٹ کے لیے بہترین ہے۔‘

لائرین شاید اس خیال میں درست ہیں کیونکہ دنیا میں اتنے سارے فلم سازوں، ٹی وی کمشنرز، مصنفین، آرٹسٹ، فنکار اور موسیقاروں نے اس کہانی کو اپنے فن میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

چاہے وہ ڈرامائی تضاد ہے یا کچھ اور، ان سے متاثر ہو کر کئی فن پارے بنے ہیں۔ ان کی سابق رہائش کنزنگٹن پیلس میں ان کا مجسمہ ہو یا ٹی وی یا فلم یا تھیٹر، کم از کم ایک درجن اداکاراؤں نے ان کا کردار نبھایا ہے۔

مگر معیار کے پیمانے کی دوسری جانب ہعرشبیگل کی ’ڈیانا‘ کھڑی ہے۔

فلم ناقد گائے لوج کہتے ہیں کہ نائومی واٹس کی ’ڈیانا‘ کی ناکامی ظاہر کرنے کے لیے آپ کو اس کا کسی اور فلم سے موازنہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ‘یہ ایک غیر معیاری سکرپٹ، مبہم ہدایتکاری اور مبہم اداکاری کا نمونہ ہے۔‘

اس کے بعد 2021 میں ’ڈیانا دی میوزکل‘ بھی ایک سستے براڈ وے شو کی طرح ناکام رہا اور اس کا کافی

مذاق اڑایا گیا۔ حال ہی میں اس میوزیکل کو نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا ہے۔

اس میں ڈیانا کے بارے میں بہت سی ایسی غلط معلومات شامل کی گئی ہیں جو پاپ کلچر کا حصہ یعنی غلط العام ہیں، مثلاً یہ کہ شہزادہ چارلز کے ساتھ ڈیانا کا ابتدائی رشتہ ایک غریب لڑکی کا امیر شہزادے کے ساتھ رشتہ تھا۔

سپنسر خاندان دراصل ایک ارب پتی کنبہ ہے اور ان کا کئی نسلوں سے شمار اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ لاج کہتے ہیں کہ ‘ڈیانا کو ورکنگ کلاس سمجھنا بالکل غلط ہے۔ مگر یہ عام تصور کا حصہ ہے۔‘

بدقسمتی سے یہ تاثر اسی لمحے بن گیا تھا جب ڈیانا پہہلی بار منظرِ عام پر آئی تھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.