خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی واٹر ٹیسٹنگ مہم مکمل، 40 فیصد بوٹلڈ واٹر غیر معیاری و مضر صحت قرار

22

پشاور (اسٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر بوتل بند پانی کی جانچ مہم مکمل کرلی ہے، جس کے نتائج کے مطابق 40.39 فیصد بوٹلڈ واٹر غیر معیاری اور انسانی صحت کے لئے مضر ثابت ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 19 لیٹر، 1.5 لیٹر، 500 ملی لیٹر اور 300 ملی لیٹر کی 156 بوتلوں کے نمونے صوبائی حکومت کی نئی قائم شدہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ میں ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 59.61 فیصد تسلی بخش جبکہ 40.39 فیصد غیر معیاری ثابت ہوئے۔

مزید بتایا گیا کہ 56 پانی کے ذرائع کے نمونوں میں سے 27 درست اور 29 غیر معیاری پائے گئے۔ 61 نمونوں میں خطرناک جراثیم جیسے کولی فام، فیکل کولی فام، ای کولائی اور پیسوڈوموناس اریجنو سا جبکہ دو نمونوں میں کیمیائی اجزاء پائے گئے جو انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان دہ ہیں۔

فوڈ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں اس وقت 143 فعال واٹر انڈسٹریز ہیں جو یومیہ تقریباً 4 لاکھ 19 ہزار لیٹر پانی تیار کرتی ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 17 ہزار لیٹر پانی غیر معیاری ثابت ہوا۔ یہ مہم 23 اگست سے 19 ستمبر تک جاری رہی۔

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے میڈیا کو بتایا کہ غیر معیاری پانی تیار کرنے والی انڈسٹریز پر بھاری جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں اور مارکیٹ سے اسٹاک واپس اٹھانے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیل شدہ پلانٹس کی پیداوار اس وقت تک بند رہے گی جب تک وہ مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات پر فوڈ اتھارٹی نے مختلف فوڈ پروڈکٹس کی ٹیسٹنگ مہمات کا آغاز کردیا ہے تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک فراہم کی جاسکے۔

وزیر خوراک نے کہا:

“غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔ ہم معیاری خوراک یقینی بنا کر اسپتال ویران کریں گے۔”

Comments are closed.