پشاور میں مہنگائی کے بوجھ تلے عوام پس گئے، حکام بے بس

12

پشاور(رپورٹ : ایم-الیاس ملاخیل) — صوبائی دارالحکومت پشاور میں عام شہری مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں جبکہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتیں آٹا، چینی اور گھی مافیا کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 روپے مہنگا ہو کر 2200 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ اسی طرح چینی 190 روپے فی کلو اور گھی 450 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے، جس سے بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق سرکاری محکمے، ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹیز نرخوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر غائب ہیں۔ نہ کوئی مؤثر پرائس کنٹرول پالیسی سامنے آئی ہے اور نہ ہی سپلائی چین کے مسائل حل کیے گئے ہیں۔ اس انتظامی ناکامی نے تاجروں، مل مالکان اور مافیا کو مزید مضبوط بنا دیا ہے جو اوپن مارکیٹ میں اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف اقدامات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ نہ وفاقی حکومت، نہ صوبائی حکام اور نہ ہی ضلعی افسران بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرتے نظر آتے ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ تاجر اور مل مالکان خفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے عوام کو لوٹ رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

مہنگائی کی یہ لہر غریب اور متوسط طبقے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے اور روزمرہ کی بنیادی اشیائے خور و نوش ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یہ بے لگام اضافہ عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کر کے آٹا، چینی اور گھی سرکاری نرخوں پر دستیاب کرائے جائیں۔

Comments are closed.