متبادل طریقہ ہائے انصاف (اے ڈی آر) سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کا آئینی راستہ ہے: جسٹس گل حسن

15

کوئٹہ، 02 ستمبر 2025ء – بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں دو روزہ ثالثی  کی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب اختتام ہوگیا۔ یہ پروگرام
وفاقی وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قایم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) نے بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے اشتراک کے ساتھ منعقد کیا۔ تربیت کا مقصد وکلاء اور دیگر متعلقہ ماہرین کی جدید ثالثی کے طریقہ کار میں صلاحیتوں کو بڑھانا اور متبادل تنازعاتی حل (ADR) کو فروغ دینا تھا۔

اختتامی تقریبِ کے مہمانِ خصوصی ہائی کورٹ بلوچستان کے معزز جج جناب جسٹس گل حسن ترین تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37(d) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ریاست سستا اور فوری انصاف یقینی بنائے گی”۔ انہوں نے کہا کہ میڈی ایشن، آربیٹریشن اور دیگر متبادل طریقہ ہائے انصاف اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ADR نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرتا ہے بلکہ فریقین کو تنازعات کے حل کے لیے کم خرچ، تیز اور خوشگوار راستہ فراہم کرتا ہے، جس سے عوام کو بروقت انصاف تک رسائی ملتی ہے۔

بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جان محمد گوہر نے نوجوان وکلاء کے لیے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا- انہوں نے IMAC و وزارتِ قانون و انصاف کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی تربیتیں نئے وکلاء کو بدلتے ہوئے قانونی تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

تربیت کے دوران عالمی شہرت یافتہ ثالثین میاں شیراز جاوید اور سید حماد یوسف گیلانی نے مختلف موضوعات پر سیشنز دیے۔ ان میں ADR کی بنیادی سمجھ، قومی و بین الاقوامی ثالثی کے ڈھانچے، ثالثی کے طریقہ کار اور عملی پہلوؤں پر جامع گفتگو شامل تھی۔

شرکاء نے تربیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ثالثی کے طریقوں سے آگاہی ملی اور عملی مہارت حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تربیت ان کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نہایت مفید ہے اور اس کے ذریعے وہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ADR کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کرسکیں گے۔

رجسٹرار IMAC احسان اللہ خان نے اختتامی تقریب میں معزز مہمانِ خصوصی جسٹس گل حسن ترین کی تشریف آوری پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے شرکاء، مہمانوں اور تربیت کاروں کی فعال شرکت اور تعاون کو اس تربیت کی کامیابی کا ضامن قرار دیا۔

یہ ورکشاپ IMAC کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان میں ADR کو ادارہ جاتی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ قیام کے بعد سے IMAC مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعے وکلاء، ججوں، سرکاری افسران اور کاروباری طبقے کو متبادل انصاف کے جدید اور کم خرچ طریقہ کار سے روشناس کروا رہا ہے۔

Comments are closed.