امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا ، جوبائیڈن

0 30

واشنگٹن  : امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا، امریکا کو اب افغان سرزمین سے کوئی خطرہ نہیں، انخلا کا فیصلہ میرا اپنا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔یہ بات امریکی صدر جوبائیڈن نے اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے عجلت میں انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ہم نے 31 اگست کو افغانستان سے انخلا کا معاہدہ کیا تھا اگر ہم دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہ کرتے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی اور طالبان کو حق حاصل ہوجاتا کہ وہ امریکیوں پر حملے کرتے

جوبائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ فیصلہ میرا تھا کیوں کہ طالبان آرہے تھے اور ہمیں جنگ بڑھانے یا وہاں سے نکل جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، بیس برس تک افغانستان میں روزانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ ہوتے رہے، روس اور چین چاہتے ہیں امریکا افغانستان میں الجھا رہے لیکن ہم نے افغانستان سے نکل کر امریکا کے مفاد میں فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرے اس فیصلے کی فوجی اور سول قیادت نے بھرپور تائید کی ہے اور میں اس فیصلے کی تمام تر ذمہ دار قبول کرتا ہوں، افغان جنگ دو دہائیوں تک جاری رہی، جو لوگ تیسری دہائی میں بھی افغان جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کہوں گا کہ یہ اب ممکن نہ تھا کیوں کہ اب افغانستان سے ہماری سرزمین پر حملے کا کوئی امکان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا اولین فرض ہے کہ امریکا کا دفاع کیا جائے اور اب امریکا کو 11 ستمبر جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے، ہم نے افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی، ہماری ہزاروں افواج اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں، داعش خراسان کے خلاف ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، دہشت گردی دیگر ممالک تک پھیل رہی ہے ہمیں اب اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.