جب دنیا کی توجہ کرسمس کی طرف ہوگی تو اس دور ان بھارت کوئی ناٹک رچا سکتا ہے ،وزیر خارجہ

0 44

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شا ہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب دنیا کی توجہ کرسمس کی طرف ہوگی تو اس دور ان بھارت کوئی ناٹک رچا سکتا ہے ،پوری قوم بھارت کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح، پاکستان کے جغرافیے اور نظرئیے کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جائے ،مزید خاموشی نقصان دہ ہو گی ۔اتوار کو خطے میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہاکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بھارت میں مودی سرکار کے ہتھکنڈوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایسا ہوا تاہم ہندوستان نے کمیونیکیشن بلیک آؤٹ سے اس آواز کو دبانے رکھا آج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کو 140 روز ہو چکے ہیںلیکن پورے ہندوستان میں کرفیو نافذ کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ پیر کو آپوزیش کی تمام بڑی جماعتوں نے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ لکھنو میں اویسی صاحب کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دنیا بھر کے مختلف دارلخلافوں میں بھارت کے لوگوں نے جن میں ہندو، سکھ، مسلمان سب شامل ہیں انہوں نے احتجاجی مظاہروں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کینیڈا، امریکہ، شکاکو میں اور یورپ کے دیگر ممالک میں احتجاج ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج آر ایس ایس کی ہندتوا سوچ نے بھارت کو تقسیم کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیکولر بھارت کے حامی ایک طرف ہیں اور ہندتوا سوچ کے حامی دوسری جانب دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوکںنے کہاکہ اب اس صورتحال میں وہ دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کا ناٹک رچا سکتے ہیں اور میں نے اس خدشے کا اظہار، سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے 12 دسمبر کے خط میں کر دیا ہے انہوکںنے کہاکہ ہم نے پی فائیو کے سفراء کو بھی اس ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ کرسمس کی تعطیلات کے دوران جب دنیا کی توجہ کرسمَس کی طرف ہو گی تو اس دوران بھارت کوئی ناٹک رچا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بحیثیت وزیر خارجہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں ساری صورتحال سے قوم کو اور دنیا کو آگاہ رکھوں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ان حالات میں پوری قوم سے اپیل کروں گا کہ وہ ہندوستان کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح، پاکستان کے جغرافیے اور نظریے کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جائیں۔انہوںنے کہاکہ 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد ہندوستان کے عزائم کھل کر سامنے آئے ہم نے عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانے کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان خود تشریف لے گئے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں، میں خود شریک ہوا۔ انہوںنے کہاکہ یورپی یونین میں، ہاؤس آف کامنز سمیت ہر فورم پر ہم نے اس مسئلے کو اٹھایالیکن بدقسمتی سے دنیا کے بہت سے ممالک اس ساری صورتحال کو جاننے کے باوجود ہندوستان کے ساتھ اپنے کمرشل اور اسٹریٹیجک مفادات کی وابستگی کے سبب خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ نجی محافل میں تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن باہر کھل کر اظہار نہیں کرتے ۔ انہوکںنے کہاکہ پاکستان او آئی سی کا بنیادی ممبر ہے اس کی یکجہتی کیلئے پاکستان نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں منگل کو ہونیوالے کابینہ کے اجلاس میں او آئی سی کا اجلاس بلانے کی بات سامنے رکھوں گا کیونکہ اب مزید خاموشی نقصان دہ ہو گی ہمیں او آئی سی سے باقاعدہ درخواست کرنا ہوگی کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔انہوکںنے کہاکہ جن ممالک نے اس مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے میں ان سب کا بے حد شکر گزار ہوں اور باقی سب سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ حالات اس نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ اس پر مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.