مستونگ میں پولیوکا ایک کیس سامنے آگیا ،محکمہ صحت نے تصدیق کردی

0 25

مستونگ(این این آئی )مستونگ میں پولیو مہم کے دعوے دہریکے دہرے رہ گئے مستونگ میں پولیو کی ایک کیس سامنے آگیا محکمہ صحت نے تصدیق کردی پولیو کیس کی تصدیق کے بعد مستونگ میں پولیو کے خلاف مہم کی ناکامی متعلقہ زمہ داران کی لاپروائی اور نااہلی ہے۔ مختلف علاقوں میں بہت ہی زیادہ تعداد میں پولیو ویکسین پلانے سے انکاری لوگ موجود ہیں اور اکثر مقامات پر صرف فنگر مارکنگ کی جاتی رہی ہیں۔مستونگ کے دور دراز کے علاقوں شیرین آب کھڈکوچہ کانک دشت سمیت مختلف علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں پولیو ویکسین پلانے سے انکاری لوگ موجود ہیں اور کچھ علاقوں میں ایک سال سے پولیو ویکسین پلانا شروع کردی گئی اس سے قبل ان علاقوں میں برائے نام پولیو مہم تھی اور فنڈز کرپشن کے نظر ہوتے رہے ہیں۔مستونگ سٹی میں پولیو کیس کا رپورٹ ہونا پولیو مہم کی کامیابی پر سوالیہ نشان بن گیاہے۔۔محکمہ صحت کی جانب سے تشہیری اور آگاہی مہم نہ چلانے سے انکاری لوگ موجود ہے اورلوگوں کی جانب سے پولیو ویکسین کے بارے غلط پروپگنڈہ بھی کیاجاتا ہے۔۔مستونگ سٹی ڈپٹی کمشنر ہاوس کے سامنے کلی ٹھل دریخان میں شیر احمد نامی شخص کی 14 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس پایاگیا اور باقاعدہ طور پر اس پولیو تصدیق کی محکمہ صحت نے کردی۔پولیو کیس سے متعلق مزید انکشاف ہوا ہے کہ مزکورہ پولیو کے متاثرہ بچی کے گھر میں مزید دو بچوں میں بھی پولیو کے وائرس کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوگیا تاہم دونوں بچوں نے پولیو کے قطرے لئے تھے جن پر وائرس کا اثر نہیں ہوا۔ تاہم ان کے سیمپلز میں وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا پولیو کیس 5 دسمبر کو رپورٹ ہوئی تھی جس کے سیمپلز ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اسلام آباد ٹیسٹ کے لئے بجوائے گئے تھے جس کا ٹیسٹ کے بعد محکمہ صحت بلوچستان نے باقاعدہ تصدیق کردی مستونگ شہر سے مستحصل علاقہ اور قومی شاہراہ پر واقع کلی ٹھل دریخان سے پولیو کیس کا رپورٹ ہونا محکمہ صحت و متعلقہ انتظامیہ کی غفلط اور نااہلی کے وجہ ہے۔اورمزکورہ کیس کے بعد مستونگ میں پولیو وائرس کی موجودگی کا باقاعدہ تصدیق ہوگئی۔اور مزکورہ علاقے میں پولیو وائرس کی موجودگی سے تمام قریبی آبادی کو خطرہ لاحق ہوگیاہے کیونکہ پولیو ایک ایسا موذی وائرس ہے کہ یہ پولیو کے متاثرہ ایک بچے سے آس پاس کے دیگر تمام بچوں میں منتقل ہوجاتاہیں۔مستونگ سے پولیو کیس کا رپورٹ ہونا ایک المیہ سے کم بھی نہیں اور محکمہ صحت اور متعلقہ انتظامیہ کی نااہلی ا ور ناکامی کو صاف ظاہر کررہی ہیں۔پولیو کے خاتمے کیلئے ہر کمپئن پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے رہے ہیں مگر پولیو پر قابو نہ پانا افوسناک ہے اور پولیو کے خاتمے کے دعوے صرف دعوے ہی ثابت ہوگئے۔مستونگ میں پولیو مہم کے دوران سٹی سمیت ضلع بھر کے کئی علاقوں میں ریفوزرز موجود ہے۔اس سے قبل بھی کچھ علاقوں میں میڈیانے نشاندہی بھی کی تھی جس پر ٹیمیں بھی متعلقہ علاقوں میں بیجی گئی تھی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت ڈبلیو ایچ او اور ضلعی انتظامیہ مل کر میڈیا پر تشہیری آگاہی مہم شروع کریں اور پولیو سے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے مختلف علاقوں میں سیمینار منعقد کریں اور مقامی قبائیلی عمائدین سیاسی رہنماوں اور خصوصا علماء کرام سے تعاون حاصل کرکے اس موزی مرض کے خلاف آگاہی مہم شروع کرکے پولیو مہم کو کامیاب بنایا جائے۔اور مستونگ سے پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔پولیو کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ پولیو کا خاتمہ ایک خواب ثابت ہوگا۔واضع رہے کہ رواں سال بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہوگئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.