ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارت کو واضح پیغام

0 31

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت پر واضح کیا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، کسی بہانے آپ نے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو مسلح افواج تیار ہیں بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا، لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئی باڑ کو پانچ جگہ سے کاٹا ہے اس کے پیچھے کیا عزائم ہیں کیا کوئی نیا مس ایڈونچر ہونے جا رہا ہے؟ ان پر بھی ہمیں تشویش ہے۔اپنے ویڈیو بیان میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کے عزائم کو بھانپتے ہوئے میں نے ایک اور خط سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیا۔ انہوںنے کہاکہ یہ میرا ساتواں خط تھا جس میں میں نے ان اقدامات کی نشاندہی کی ہے جن سے بھارت کے ناپاک عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں نے خاص طور پر چار اقدامات پر توجہ دلائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئی باڑ کو پانچ جگہ سے کاٹا ہے اس کے پیچھے کیا عزائم ہیں کیا کوئی نیا مس ایڈونچر ہونے جا رہا ہے؟ ان پر بھی ہمیں تشویش ہے۔انہوںنے کہاکہ جنوری 2019 سے ابتک تین ہزار مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ 300 کے قریب نہتے انسانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے اس خط کی بنیاد پر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں چین نے اس مسئلے کو دوسری مرتبہ اٹھایا ۔انہوںنے کہاکہ پہلی مرتبہ پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے پیش نظر اس مسئلے کو سیکورٹی کونسل میں اٹھایا گیا اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں بند کمرے کے اجلاس میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔انہوںنے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ چین نے اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں بروقت اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اب ان نئے اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ جو ہماری طرف بھی موجود ہیں اور بھارت میں بھی تعینات ہیں ان کے ذریعے چھان بین کرواء جائے اور وہ زمینی حقائق سے سلامتی کونسل کو آگاہ کریں۔انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں جلد از جلد تاریخ کا تعین کیا جائے تاکہ حقائق انڈیپنڈنٹ ذرائع سے فورآ سلامتی کونسل تک پہنچیں ۔انہوںنے کہاکہ نرندر مودی کے عزائم واضح ہیں سب سے پہلے 5 اگست کو غیر قانونی اقدامات کئے گئے جس میں پورا کشمیر سراپا احتجاج ہے امریکہ، یورپی یونین، ہاؤس آف کامنز اور دنیا کے بڑے بڑے کیپیٹلز میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو دبانے کیلئے ہندوستان نے ظالمانہ اقدامات اٹھائے ۔انہوںنے کہاکہ آج کرفیو کو 136 دن ہو چکے ہیں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ہے مواصلات کے ذرائع معطل ہیں میڈیا جا نہیں سکتا ڈپلومیٹس پر پابندی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ بابری مسجد کا فیصلہ آتا ہے جس سے ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں اور اقلیتوں میں تشویش اور احساس محرومی پائی جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ این آر سی کا جو قدم اٹھایا گیا اس پر بھی اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔انہوںنے کہاکہ شہریت کے نئے ترمیمی بل پر آسام کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے احتجاج کی خود قیادت کی پانچ ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیںپوری اپوزیشن سراپا احتجاج ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک امتیازی قانون ہے اور بھارت کے آئین کی روح کے منافی ہے ۔انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سوچ کے برعکس ہے یہ بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس احتجاج سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمیں ہندوستان کیطرف سے نیا ناٹک رچانے کا خدشہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے چیف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ہماری انٹیلی جنس نے غیر معمولی نقل و حرکت کو محسوس کیا ہے جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں آج پاکستانی قوم کی طرف سے نریندر مودی سرکار کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم پر امن لوگ ہیں لیکن 27 فروری کو مت بھولیے گا۔ انہوںنے کہاکہ اگر جارحیت کی گئی، فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا کسی بہانے آڑ میں آپ نے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پاکستانی افواج تیار ہیں بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا اور پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور پاکستان کے نظریئے، جغرافیے اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے گی ایسی غلطی نہ کرنا،ہم پرامن لوگ ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.